خبردار ہوشیارکہیں آپ بھی تو اس غفلت کا شکارنہیں، آپکے فنگر پرنٹس پر کوئی اور لاکھوں تو نہیں بٹور رہا۔
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑے زرخیز ہے ساقی پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں ہمارے یہاں سائنس کے میدان میں بہترین ایجادات ہو رہی ہیں جیساکہ جے ایف سیونٹین لڑاکا طیاریے،ڈرون،میزائل،وینٹیلیٹرز بنانا وغیرہ اس میں شامل ہیں۔وہیں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جنہیں خداوند کریم نے قابلیت تو بخشی پر وہ اسکا استعمال غیر قانونی کاموں میں کر رہے ہیں۔
ایس پی انویسٹی گیشن اوکاڑہ کے مطابق پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں کافی عرصے سے ایک ایساڈکیتوں کا گروہ سرگرم ہے۔جو مختلف بہانوں سے ساد لوح،غریب و نادار لوگوں کو بیوقوف بنا کر سادہ کاغذ پر انکے انگوٹھوں کے نشانات لے لیتے ہیں جس کے بعد وہ مختلف سماجی تنظیموں سے ماہانہ خیراتی رقوم حاصل کر تے ہیں۔
جبکہ اس مسئلے پر ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے ہم نے بائیو میٹرک مشینیں،سیلیکون پر چھپے ہوئے انگوٹھوں کے نشانات،لیپ ٹاپس،ساڑھے تین سو سمز اور لاکھوں کی تعداد میں اے ٹی ایم کارڈز برامد کیے۔
بعد ازاں یہ گروہ انہی انگوٹھوں کی مدد سے کئی سمز رجسٹرڈ کرواتے ہیں اور مختلف پراجیکٹس جیسے احساس کفالت پروگرام،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرامز سے بھاری رقوم بٹورتے ہیں۔اس کے علاوہ انکا نیٹ ورک پورے پنجاب میں پھیلا ہوا ہے جسے پکڑنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اگلے مرحلے میں انہیں قانون کی سلاخوں کے پیچھے لانے کیلئے پی ٹی اے،نادارااور ٹیلی کام کمپنیوں سے بھی مدد حاصل کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اسے فراڈ سے عوام الناس کو بچایا جا سکے۔