میرے شوہر کے پاس بہت دولت تھی لیکن ہمیں چھوڑ دیا ۔۔ ملائیشیا سے پاکستان آنے والی خاتون رکشہ چلانے پر مجبور، جانیں عورت کی دکھ بھری داستان

image

قسمت انسان کو جہاں آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے تو وہیں چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نصیب کے ہاتھوں رل جاتے ہیں۔ ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ گھر کے اخراجات پورے کرسکیں اور پھر بدقسمتی سے نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔

لیکن وہیں ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو تنگ حالات کا بخوبی سامنا کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔

آج ہم ایک ایسی ہی باہمت کی کہانی سنانے والے ہیں جس نے مشکل حالات جھیلے لیکن اپنے بچوں کی خاطر محنت مزدوری کے ذریعے چند پیسے کمانے کا فیصلہ کیا۔

مذکورہ خاتون کا نام فوزیہ ہے جو ملائشیا سے پاکستان کمانے کی غرض سے آئی ہیں۔ لیکن ان کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ وہ ملائشیا جیسے ترقی یافتہ ملک سے پاکستان آئیں؟

فوزیہ لاہور میں کرائے کے گھر میں مقیم ہیں اور چنگچی رکشہ چلاتی ہیں اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں۔ ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ نے کہاکہ شوہر نے دوسری شادی کرلی تھی اور ان دنوں میرے بھائی نے خودکشی کر لی تھی۔ انہوں نے اپنے بھائی کی خودکشی کرنے کی وجہ بتائی کہ انہیں اپنے ادارے سے تنخواہ نہیں ملی رہی تھی جس کے باعث انہوں نے خود کو پھانسی دے دی۔

مذکورہ خاتون نے بتایا کہ وہ ملائشیا سے آئیں تو چند دن بعد ان کے شوہر بھی آگئے تھے، انہوں نے میرے بچوں کی پرورش بالکل نہیں کی تھی بلکہ انہیں دارلآمان چھوڑ کر آگئے تھے لیکن میں انہیں وہاں سے لے آئی تھی۔ خاتون نے بتایا کہ میرے شوہر نے مجھ سے آخری بار رابطہ کیا اور اس کے چند دن بعدوہ کار حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ میں اپنی چنگچی میں خواتین کی سواری بٹھاتی ہوں اور اپنے گھر کے قریب رہنے والے بچوں کو اسکول چھوڑتی ہوں جس میں مجھے کبھی پندرہ سو روپے مل جاتے تھے تو کبھی کوئی پانچ سو روپے دے دیتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ باہر کے کام سے فارغ ہوکر میں اپنے گھر کے کام کاج کرتی ہوں، جھاڑو پوچھا ، کھانا پکانا پھر دوبارہ اسکول کی جانب سے دوڑ لگانا۔

انٹرویو کے دوران فوزیہ نے ایک اور دل سوز واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ میں اپنے حالات سے بہت پریشان تھی اور میں نے بچوں سمیت خودکشی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے باہر سے زہر لاکر ایک کلو آٹے میں ملا دیا اور پھر روٹیاں بنائیں۔ میرے بچے 2 دن سے بھوکے تھے اور مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔

خاتون نے بتایا کہ جب میں نے روٹیاں تیار کیں تو میرے سب بچے پہلی روٹی مانگ رہے تھے ، میں نے سوچا کہ میری اولاد کو معلوم نہیں کہ اس میں زہر شامل ہے اور پہلی روٹی مانگ کر پہلے مرنے جار ہے ہیں، میں اپنی اولاد کے ساتھ بہت غلط کر رہی ہوں، بعدازاں میں نے آٹا ایسی جگہ پھینکا کہ کوئی جانور بھی نہ کھاسکے۔ اور اپنے بچوں کو گلے سے لگا لیا۔

دکھ بھری داستان سنانے والی خاتون کا کہنا تھا کہ میں کپڑے تک دوسری خواتین سے مانگ کر پہنتی ہوں، مجھ پر کفن تک حرام ہے۔

مزید ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے پڑھ لکھ کر اچھے انسان بنیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US