بچے کی پیدائش کے وقت ایک مرد میں باپ اور شوہر دونوں جھلک دکھائی دیتی ہے اور۔۔ جانیں پہلی بار باپ بننے پر ایک مرد کو بھی کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

image

ہم میں سے اکثر لوگ ایک عورت کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں جب وہ ماں بننے والی ہوتی ہے اور ماں بن جاتی ہے۔ ایک ماں انتہائی مشکل حالات سے ہو کر ماں بننے کا اعزاز حاصل کرتی ہے۔

مگر ان سب میں جہاں ماں تمام تکالیف کو برداشت کرتی ہے وہی ایک مرد بھی ہوتا ہے جو کہ باپ بننے کی خوشی تو محسوس کرتا ہی ہے مگر باپ ہونے کا اعزاز بھی اسے ایک الگ احساس کو محسوس کرا رہا ہوتا ہے۔

ایک مرد جب تک ایک بیٹا، بھائی ہوتا ہے۔ اس وقت تک اسے اس ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا جو ذمہ داری باپ بننے کے بعد ملتی ہے۔ اگر چہ ذمہ داریاں وہ پہلے بھی نبھا رہا ہوتا ہے۔

باپ بننے کے بعد جس ذمہ داری کا احساس زیادہ ہوتا ہے وہ اپنائیت کا ہوتا ہے جو کہ اپنی اولاد سے ہے۔ باپ بننے سے پہلے تک ایک مرد اپنے بچے کی صحتیابی کے لیے ہر قسم کی مشکلات کو جھیلتا ہے۔

حاملہ بیوی کو ہر طرح سے آرام و سکون پہنچاتا ہے تاکہ بچہ و ماں دونوں صحت مند رہیں۔ اس دوران سب سے بڑی پریشانی جو ایک مرد کو ہوتی ہے وہ یہ کہ کہیں بچے کی جان کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہوجائے۔

یہ پریشانی اسے ہر وقت، کام کے وقت، دوستوں کے درمیان یا گھر سے باہر۔ غرض ہر وقت ستاتی ہے۔ لیکن اس پریشانی کے ساتھ ساتھ ایک خوشی بھی ہوتی ہے جو اسے فخر محسوس کراتی ہے۔

پھر جب مرد باپ بننے کے اعزاز سے کچھ لمحات دور ہوتا ہے تو ایک ناقابل بیان پریشانی ہوتی ہے جو اسے سکون نہیں لینے دیتی۔ یہ پریشانی دراصل اپنی بیوی اور بچے کے لیے پیار ہوتا ہے جو کہ ایک شوہر اور باپ دونوں ایک ساتھ ایک مرد میں جھلک رہے ہوتے ہیں۔

باپ کا اعزاز ملنے کے بعد جب پہلی بار اپنے بچے کو ہاتھوں میں لیتا ہے تو وہ لمحات اگر چہ اسے خوشی دے رہے ہوتے ہیں مگر دراصل انہی لمحات میں ایک باپ اپنے بچے کے مستقبل کا سوچ رہا ہوتا ہے۔

دراصل بچے کے پیدائش کے ساتھ ہی ایک باپ کو اپنے بچے کی سماجی، معاشی، دینی، اور دیگر لحاظ سے تربیت اور پرورش کی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جو اسے کافی حد تک بدل کر رکھ دیتا ہے۔

یہی بدلاؤ اس کے رہن سہن، ذہنی سوچ، غرض ہر لحاظ سے تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک باپ اپنی خواہشات کو مار کر اپنے بچے کی خواہشات کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس کے جوتوں کی خاطر خود پھٹے ہوئے جوتے پہن لیتا ہے، اس کے کھانوں کی فرمائشوں کی خاطر خود جو ملے کھا لیتا ہے۔ اس کی خواہشات کی خاطر خود تپتی دھوپ میں خوار ہوتا ہے یا موسلادھار بارش میں بھیگتا ہے۔ لیکن ہمت نہیں ہارتا۔

اگرچہ ماں کی تکالیف جسمانی بھی ہوتی ہے مگر باپ کی تکالیف ناقابل بیان ہے کیونکہ باپ کی تکالیف کا تعلق ذہن سے ہوتا ہے۔ اور ذہنی تکالیف اور سوچ انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US