تمام امتِ مسلمہ کی کعبہ شریف سے محبت بے مثال ہے۔ مکہ مکرمہ اسلام کا مرکز ہے جہاں دنیا بھر کے خوش قسمت مسلمان حج و عمر کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔
جیسا کہ ذی الحج کا مہینہ زور و شور سے رواں دواں ہے اور امت کے مسلمانوں کی نگاہیں حرمین شریفین کی جانب لگی ہوئی ہیں۔
ہر سال خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے جسے ریشم کے دھاگوں اور سونے کے تاروں سے بنایا جاتا ہے۔
لیکن بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے اور اس اہم معلومات سے محروم ہیں کہ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کب ہوا اور کس نے چڑھایا تھا؟ اس کے علاوہ ظہورِ اسلام سے قبل غلافِ کعبہ کے لیے کون سا کپڑا استعمال کیا جاتا تھا؟
آج ہم اس حوالے سے آپ کو بتانے جا رہے ہیں۔
غلاف کعبہ کی تیاری کا آغاز کب ہوا اس حوالے سے صحیح معلومات سامنے نہیں آئی تاہم متعدد تاریخی کتب کے مطابق قبل از اسلام دور میں پہلی بار یمن کے بادشاہ طوبیٰ الحمیری نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا۔
الحمیری نے مکہ مکرمہ سے واپسی پر ایک موٹے کپڑے کو استعمال کرتے ہوئِے غلاف کعبہ تیار کروایا۔ تاریخی کتابوں میں اس موٹے کپڑے کو ’کشف‘ کا نام دیا گیا ہے۔
بعد ازاں اسی بادشاہ نے ’المعافیریہ‘ کپڑے سے غلاف تیار کروایا اور اس مقصد کے لیے یمن کے ایک قدیم شہر میں بننے والا بہترین کپڑا استعمال کیا گیا۔
طوبیٰ الحمیری کے بعد کے ادوار میں غلافِ کعبہ کے لیے مختلف کپڑے استعمال کیے جن میں چمڑے سے لے کر مصر کا قبطی کپڑا تک شامل تھا۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں اس غلاف کی تیاری کے لیے الگ سے ایک محمکہ قائم کیا گیا اور یوں اس مقصد کے لیے کپڑا مکہ میں ہی بننے لگا اور اس کام کے لیے ایک کارخانہ بھی لگایا گیا۔
اس کارخانے میں غلاف کعبہ کی تیاری کے دوران استعمال ہونے والے پانی تک کو پاک کیا جاتا ہے اور غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے ریشم کو اس پاک پانی سے دھویا جاتا ہے۔