جس نے دوسری شادی کی اس کو مُلک سے نکال دیا جائے گا اور ۔۔ کیا پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی ہوسکتی ہے، جانئیے مختلف ممالک میں 4 شادیوں کا کیا قانون ہے؟

image

شادی پہلی مرتبہ تو لڑکا اور لڑکی دونوں کے خاندانوں میں خوشیوں کی ایک الگ ہی لہر ہوتی ہے اور سب ہی مزے سے شادی کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں، لیکن جب بات دوسری شادی کی ہو تو جہاں کچھ لوگ تنقید کر رہے ہوتے ہیں، وہیں کسی کے ساتھ دھوکہ تو کسی کا دل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے میں کچھ مرد حضرات تو بیویوں کی مرضی کی بغیر بھی شادی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آج ہماری ویب کے اس فیچرڈ آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ مختلف ممالک میں 4 شادیوں کے متعلق کیا خاص قوانین ہی جن سے معاشرے میں انصاف کی بلند فضا قائم ہیں۔

ترکی کی اہم اسلامی ریاست میں یہ قانون نافذ ہے کہ اگر کسی بھی مرد نے دوسری شادی کی جبکہ اس کی پہلی بیوی زندہ ہوئی تو اس پر ترکی کی ریاست کے دروازے بند کر دئے جائیں گے، اور وہ ایک اچھا شہری نہیں کہلائے گا۔

ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں بھی دوسری شادی کرنے کے حوالے سے حکومت نے بہت سخت قوانین بنائے ہوئے ہیں اور یہاں دوسری شادی کرنے کے لئے آپ کو 2سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے، اگر بیوی زندہ ہے تو قانونی دلائل اور حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں گھریلو معاملات طے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں تو کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا جب دل چاہے شادی کرلیتے ہیں یا پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کرلیتے ہیں اس لئے یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور جب دوسری شادی کوئی بھی مرد کرلیتا ہے تو پہلی بوی کی ساری زمہ داری عائد ہوتی ہے وہ کورٹ کچہری میں خود کیس دائر کرے، وہ خود اپنی بے گناہی طاہر کرے اور اس بات کو ثابت کرکے دکھائے کہ اس کے شوہر نے اس سے اجازت لی ہے یا نہیں جس پر سارا خرچہ اور انتظام بیوی خود کرتی ہے۔ یہ اندھا قانون ہے، یہاں کوئی پوچھنے اور دیکھنے والا نہیں، لیکن جب یہ بات ثابت ہو جائے تو عدالت مذکورہ شخص (شوہر) کو سزا بھی سناتی ہے۔

٭ مراکش وہ واحد ملک ہے جس میں دوسری شادی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، یہاں کی حکومت نے اتنا سخت میرج ایکٹ بنا رکھا ہے کہ مرد صرف پہلی بیوی کی دیکھ بھال ہی کرسکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US