میرے ابو 5 سال پہلے بھگدڑ مچنے سے لاپتہ ہوگئے تھے اور پھر ۔۔ جانیے حج کے موقع پر پیش آنے والے وہ 5 واقعات جو آج بھی لوگوں کو رلا دیتے ہیں

image

حج کے موقع پر گزشتہ سالوں میں کچھ ایسے دلخراش واقعات پیش آئے تھے جن میں کئی افراد جان کی بازی ہار چکے تھے۔

اسی حوالے سے آج آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح حج کے موقع پر بھگدڑ مچنے کے واقعات میں لوگ شہید ہوئے تھے۔

1975:

پہلا واقعہ 1975 میں پیش آیا تھا جب حاجیوں کے ایک کیمپ میں گیس لیکچ کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا اور آگ لگنے کی وجہ سے 200 سے زائد حاجی شہید ہو گئے تھے۔

1990:

1990 میں بھی بھگدڑ کے نتیجے میں 1 ہزار سے زائد حاجی شہید ہو گئے تھے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔

1997, 1994:

اسی طرح 1994 اور 1997 میں ہونے والی بھگدڑ کے نتیجے میں بھی 500 سے زائد حاجی شہید ہوگئے تھے۔ 2004 میں پیش آنے والے واقعے میں تقریباً 200 حاجی شہید ہوئے تھے، جبکہ 2006 میں بھی واقعہ پیش آیا تھا جس میں 350 سے زائد حاجی شہید ہوئے تھے۔

2015

2006 کے بعد 2015 میں بھی بھگدڑ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں 300 سے زائد حاجی شہید ہوئے تھے۔

اس سب صورتحال میں پاکستانی بھی بڑی تعداد میں شہید ہوئے تھے۔ جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ زیب بھی انہی حاجیوں میں شامل تھے جن کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا۔

ڈاکٹر شاہ زیب کا تعلق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے تھا جبکہ وہ پیشے سے ایک ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر شاہ زیب کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ حادثے سے ایک روز پہلے ڈاکٹر شاہ زیب سے بات ہوئی تھی اس کے بعد سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔

جبکہ بیٹی کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی بھی مدد نہیں کر رہا ہے خدارا حکومت ہماری مدد کرے۔ اہلیہ کا کہنا تھا کہ شاہ زیب کے دوست اور رشتہ دار ہی مدد کر رہے ہیں حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ ڈاکٹر شاہ زیب کی گمشدگی سے متعلق اب تک کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے اگر خبر آئی بھی ہے میڈیا تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ امید ہے وہ اس واقعے میں خیر خیریت سے ہونگے۔ لیکن ڈاکٹر شاہ زیب کی فیملی کی طرح کئی ایسے گھرانے ہیں جو کہ آج بھی اس واقعے کو یاد کر کے افسردہ ہو جاتے ہیں


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US