میری زبردستی شادی کرائی گئی تھی، میں اس شادی کو نہیں مانتا۔۔۔ جانیں نریندر مودی اپنی ماں اور اہلیہ کے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟

image

بھارتی وزیر اعظم دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو کہ منفی خبروں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔

آج بھارتی وزیر اعظم مودی کے بارے میں کچھ ایسی معلومات آپ تک پہنچائیں گے جو ہو سکتا ہے آپ کے لیے حیرت کا باعث بن جائے۔

بھارتی وزیر اعظم بچپن ہی سے ایک منفرد شخصیت کے مالک ہیں۔ اس بات کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ مودی بچپن ہی میں اپنے گھر کو چھوڑ آئے تھے۔ عین ممکن ہے یہی وجہ ہو، کہ مودی کو رشتوں کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو۔

نریندر مودی وہ واحد وزیر اعظم ہیں جن کی اہلیہ ان کے ساتھ نہیں رہ رہیں، جبکہ والدہ بھی گجرات میں ہی رہائش اختیار کرے ہوئے ہیں۔ اکثر والدہ بیٹے سے ملنے ان کے پاس آجاتی ہیں۔

نریندر مودی کا کہنا ہے کہ میں اپنے گھر والوں میں کسی سے بھی زیادہ بات چیت نہیں کرتا ہوں، اور نہ ہی کسی سے زیادہ قربت ہے۔ جب میری ماں مجھ سے ملنے آتی ہے تو صرف ایک یا دو مرتبہ ہی کھانے پر ملاقات ہوتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ والدہ مجھے آج بھی مجھے 1 روپیہ 25 پیسے دیتی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو کہ عام طور پر متنازع شخصیت تو ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ نجی زندگی میں بھی تنازعات کا شکار ہیں۔

نریندر مودی کی اہلیہ جشودابین، کیا آپ جانتے ہیں جشودابین ایک اسکول ٹیچر ہیں مگر آج بھی قانونی طور مودی کی بیوی ہونے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

1968 میں جب مودی 18 سال کے تھے اس وقت گھر والوں نے زبردستی نریندر مودی کی شادی جشودابین سے کر دی تھی۔ شادی کے تین ماہ تک مودی جشودابین اور گھر والوں کے ساتھ رہے پھر قطع تعلق اختیار کر کے سنیاس لے چکے تھے۔

مگر حیرت زدہ بات یہ بھی ہے کہ سنیاس کے بعد بھی ماں سے بات چیت بر قرار ہے مگر بیوی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

آج بھی جشودابین اپنے جائز حقوق کے لیے در بدر پھر رہی ہیں۔

جبکہ 1987 میں آخری بار جشودا بین کی مودی سے ملاقات ہوئی تھی اس حوالے سے جشوابین کا کہنا تھا کہ مودی نے مجھ سے معافی مانگی تھی، کہا کہ مجھے میرے رویے پر معاف کر دو، میں شرمندہ ہوں اور میری طلاق کو قبول کر کے مجھ سے دوبارہ شادی کر لو۔ مودی کی اس بات پر جشودابین کا کہنا تھا کہ میں تم سے دوبارہ شادی کیوں کروں؟ تم اپنی منزل پر جا رہے ہو اور میں اپنی منزل پر۔

اگرچہ مودی نے جشودابین کو دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا مگر جشودابین اس وقت نریندر مودی کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں تھیں۔ جشودابین نے مودی کی جانب سے دی گئی طلاق کو قبول نہیں کیا ہے۔

واضح رہے ٹیلی گراف کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مودی اپنے بھائی سوما بھائی کے ساتھ جشودابین کے گھر طلاق کے سلسلے میں گئے تھے تاہم جشودابین نے صاف انکار کر دیا تھا۔

اس وقت جشودابین اپنے بھائی کے ساتھ رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US