20 سال سے ہم باپ بیٹے ایک ساتھ جہاز اڑاتے ہیں کیونکہ ۔۔ جانیئے بیٹے نے باپ کا خواب کیسے پورا کیا؟

image
بچے ماں باپ کا سایہ بن کر چلتے ہیں جیسا والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی وہی کریں۔ یہ عام طور پر آپ نے بچوں میں دیکھا ہی ہوگا ۔ بالکل ایسی ہی ایک کہانی ہم آپ کو بتا نے جا رہے ہیں جو کویتی باپ بیٹے کی ہے۔ الحد بن عمر کویت کی نجی فلائٹ کے کیپٹن ہیں جو گزشتہ 56 سالوں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ اور ان کا بیٹا الفجر بن الحد بھی پچھلے بیس سالوں سے باپ کے جہاز اڑا رہا ہے۔ الفجر بن الحد کہتے ہیں کہ : مجھے جہاز میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا، پھر ایک دن بابا سے بہت رو رو کر ضد کرکے کہا کہ آپ پائلٹ ہو، مجھے بھی جہاز میں بٹھاؤ، مجھے دیکھنا ہے کہ جہاز کیسے چلتا ہے، پھر بابا نے محنت اور کوشش کرکے اپنے کیپٹن سے بات کی اور پھر میرے لئے پائلٹ جیسے کپڑے بنوائے، آکر وہ دن آگیا جب میں جہاز میں جا کر بابا کے برابر میں بیٹھا اور میں نے دیکھا کہ جہاز کیسے اڑتا ہے۔ اس دن سے میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بھی بڑے ہو کر بابا کے ساتھ جہاز چلاؤں گا اور میرے بابا بھی یہی چاہتے تھے، اس کے بعد میں نے خوب دل لگا کر محنت کی اور اپنے بابا کا خواب پورا کیا۔ آج ہم دونوں باپ بیٹے ایک ساتھ ایک ہی فلائٹ میں سفر کرتے ہیں۔ میری والدہ اور بیوی دونوں فیشن ڈیزائنر ہیں، وہ کپڑے ڈیزائن کرتی ہیں اور ہم دونوں جہاز اڑاتے ہیں۔ میری ایک بچی ہے، میں چاہتا ہوں کہ کل وہ بھی جہاز اڑائے بالکل اسی طرح جس طرح میں اپنے بابا کے برابر میں بیٹھ کر جہاز چلاتا ہوں۔ بابا کا خواب پورا کرنے کی لگن نے مجھے بچپن سے ہی بہت زیادہ قابل اور احساس ذمہ داری رکھنے والا انسان بنایا اور اب جب بھی ہم دونوں دور دراز کی فلائٹ پر جاتے ہیں اکثر بچپن کی باتوں کو یاد کرتے ہوئے جاتے ہیں۔ اتنے سالوں میں آج تک کبھی بھی جہاز کا کوئی حادثہ نہیں ہوا اور ہمیشہ بآسانی سفر کو ممکن بنایا ہے۔

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US