کراچی میں کورونا وائرس ایک بار پھر طاقتور ہوگیا اور متعدد لوگ اس کا شکار ہونے لگے جس کے باعث سندھ حکومت نے انتہائی اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے پابندیوں کو مزید سخت کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کورونا ٹاسک فورس کی جانب سے صوبے بھر میں کورونا وائرس کیسز کی شرح 10 فیصد اور شہر قائد میں کیسز کی شرح 25 فیصد بڑھ جانے پر پابندیوں کو بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
سندھ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کورونا کی بڑھتی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا کیونکہ وائرس کی ایک خطرناک ڈیلٹا وئیرینٹ کی قسم کراچی میں پھیل رہی ہے جو اطلاعات کے مطابق بھارت سے آئی ہے۔
اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبے میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث پیر سے تعلیمی ادارے بند کرنے، شادی ہالز کی تقریبات پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جن افراد نے تاحال ویکسین نہیں لگوائی ان کی موبائل فون کی سمز بند کر دی جائیں گی اور ان افراد کی موبائل سمز بند کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو خط بھی ارسال کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے، سرکاری اور نجی سیکٹرز میں 50 فیصد اسٹاف حاضر ہوگا۔
کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیر سے شاپنگ مال اور مارکیٹیں صبح 6 سے شام 6 بجے تک کھلیں گی۔
اجلاس میں جمعے اور اتوار کو محفوظ دن قرار دیتے ہوئے ان دونوں دنوں میں بازار بند رہیں گی، تاہم کھانے پینے کی اشیاء، کریانہ اسٹور اور دودھ دہی کی دکانیں، بیکریز اور میڈیکل اسٹورز کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔