شادی کا موقع خوشیوں سے بھرا ہوتا ہے جس گھر میں شادی کی شہنائی نہ بجے وہاں گھر والے اپنے گھر کی شادی کو انجوائے کرنے کے لئے ترس جاتے ہیں اور پھر جب برسوں بعد یہ موقع آتا ہے تو سارا خاندان مل کر خوشیوں کو بانٹتا ہے۔ مگر شادی کے حوالے سے ایک عام رواج ہمارے معاشرے میں نظر آنے لگا ہے وہ یہ ہے کہ شادی کرتے وقت ہم لوگ لڑکیوں کی عمر کو تو بہت دیکھتے ہیں، مگر لڑکے کی عمر پر کوئی روک ٹوک نہیں لگاتا، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر لڑکی لڑکے سے عمر میں بڑی ہو تو جناب آفت مچا دی جاتی ہے، ہر کوئی ارے اتنی بڑی عمر کی لڑکی بیاہ کر لانے کی ضرروت کیا تھی؟ باقی لڑکیاں کم پڑ گئیں تھیں، وہیں لڑکا عمر میں اگر لڑکی سے 20 سال بھی بڑا ہو تو لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا؟ کیوں؟ پہلے وقتوں میں جب ان باتوں کو بالکل خاطر میں نہیں لایا جاتا تھا اسی وقت معاشرے سکوں سے رہا کرتے تھے اور ہر عمر میں لڑکیوں کی شادیاں ہو جاتی تھیں، والدین بیٹیوں کے لئے ایسے ڈپریشن کا شکار نہ ہوتے تھے جیسے کہ اب ہو رہے ہیں۔ آخر کیوں؟

جبکہ اگر ہم غور کریں تو ٹی وی ڈراموں میں بھی کئی ایسے اداکار ہیں جنہوں نے معاشرے کی اس ناسور رسم کو ختم کیا ارو خؤد سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرکے یہ واضح کردیا کہ لڑکی کا عمر میں بڑا ہو نا کوئی جرم تھوڑی ہے۔ اب جیسے بھارت کی مشہور اداکارہ پریانکا چوپڑا کو دیکھ لیں، پاکستانی اداکار یسریٰ رضوی کو دیکھ لیں انہوں نے خؤد سے 20 سال چھوٹے لڑکے سے شادی کی اور خؤش ہیں۔ بالکل اسی طرح برطانوی شاہی خآندان کے شہزادے ہیری نے خؤد سے 4 سال بڑی میگھن مارکل سے شادی کی جس کی کل دھوم دھام سےسالگرہ منائی گئی یہاں تک کہ اس کے محل سے نکلنے کے باوجود بھی ملکہ الزبتھ نے اس کو سالگرہ کیا، آخر صرف پاکستانی معاشرے کی چھوٹی سوچ کب تک اس معاشرے کو یوں تباہی کی طرف گامزن کرتی رہے گی؟

یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ شادی اسی وقت کامیابی سے چلتی ہے جبکہ دونوں میاں بیوی اور خاندان والے اچھے سے مل جل کر رہیں اور مشکلات میں ایک دوسرے کا دامن تھام لیں۔ عمر تو صرف ایک نمبر ہے ایک ہندسہ جو کبھی میں کم اور کبھی میں زیادہ بھی ہو تو کوئی برائی نہیں ہوتی۔
ایک ایسے ہی مرد کی کہانی ہم آپ کو بتا رہے ہیں جن کی بیوی ان سے عمر میں 14 سال بڑی ہے، لیکن دونوں گذشتہ 12 سال سے ازدواجی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور اچھی زندگی گزار رہے ہیں ارو لڑخے کے گھر والؤں نے بھی آج تک لڑکی کو یہ طعنہ نہیں مارا کہ تم ہمارے بیٹے سے عمر میں بڑی ہو۔
اس شخص کا نام محمد اعظم ہے جس کی عمر شادی کے وقت 25 سال تھی اور ان کی بیگم تسنیم کی عمر شادی کے وقت39 سال تھی، دونوں کی 12 سال قبل شادی ہوئی اور ان 12 سالوں میں خدا نے ان کو 4 بچوں 2 بیٹوں اور 2 بیٹیوں سے نوازا اور اب ان کی بچیاں بڑی ہو رہی ہیں۔ آج تک تسنیم کے سسرالیوں نے ان پر کوئی طعنہ یا تنقید نہ ہونے دی، جبکہ محلے والوں اور دیگر رشتے داروں کو معلوم ہوا کہ لڑکی اتنی بڑی ہے تو بہت باتیں سنائیں، مگر تسنیم کی 7 نندوں نے اپنی بھابھی کا ساتھ دیا اور یہ معاشرے میں مثال قائم کردی کہ عمر سے شادی کا کوئی تعلق نہیں۔ تسنیم کہتی ہیں کہ:

''
مجھے میرے موٹاپے اور عمر کے زیادہ ہونے پر کوئی شادی کے لئے ہاں نہیں کرتا تھا، لیکن اچھا ہوا کسی نے ہاں نہ کی اور جب خدا نے شادی کروائی تو ایسے گھر میں کروائی جہاں میرا شوہر مجھے سے چھوٹا ہے، میری 5 نندیں مجھ سے عمر میں چھوٹی ہیں لیکن کبھی کوئی آنچ نہ آنے دی اور میرا خیال سب سے زیادہ رکھا گیا۔
''
کیا ہر کوئی اس گھرانے کی طرح زندگی نہیں گزار سکتا کہ مل بانٹ کر آپس میں خوش رہیں اور معاشرے میں بیٹیوں کی عزت بالکل اپنی بیٹی، اپنی بہن اور اپنی ماں کی طرح کی جائے۔