قومی پرچم کسی بھی قوم کی شناخت ہوتا ہے، اور اس کے وقار کا بھرپور خیال کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ ملک ایسے بھی ہیں جہاں ان کے پرچم صبح سورج طلوع ہونے پر لہرائے جاتے ہیں اور غروب ہونے سے پہلے اُتار لیے جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں قومی پرچم لہرانا اس قدر اعزاز کی بات ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ قوانین اور مکمل طریقہ کار وضح کیا گیا ہے یہاں تک کہ پاکستان میں بھی ’’فلیگ پروٹوکولز 2002‘‘ کے مطابق پاکستان میں سرکاری عمارتوں پر رات کے وقت قومی پرچم نہیں لہرایا جا سکتا۔
یہ قانون ہے کہ قومی پرچم سورج طلوع ہونے پر لہرایا جائے اور سورج غروب ہونے سے پہلے اتار لیا جائے، جبکہ پاکستان میں صرف ارلیمنٹ ایسی عمارت ہے جہاں قومی پرچم رات کے وقت لہرایا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے بھی پرچم کے اطراف مصنوعی روشنی کا انتظام لازم ہے، قومی پرچم کبھی سرنگوں نہیں کیا جاتا سوائے کسی قومی سانحہ کے۔
اس کے علاوہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہی قانون رائج ہے اور وہاں بھی رات ہونے سے پہلے پرچم کو اُتار لیا جاتا ہے۔
مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اکثر ملکوں میں یہ قانون کیوں ہے؟ اگر نہیں معلوم تو آج ہم آپ کو بتائیں گے اس کے پیچھے کی اہم وجوہات۔
سورج غروب ہونے سے پہلے اکثر ممالک میں پرچم کیوں اُتار لیا جاتا ہے؟
دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ملکوں میں یہ قانون کے خلاف ہے کہ قومی پرچم بِنا روشنی اندھیرے میں لہرائے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت سزا بھی ہوتی ہے، یا اگر رات کے وقت پرچم لہرایا بھی جائے تو اس کے اطراف مکمل روشنی ہونی چاہیئے۔
کیونکہ صبح سورج نکلتے وقت پرچم لہرانا طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرنا مانا جاتا ہے جبکہ رات ہونے سے قبل اسے اتار لینا اس پرچم کی عزت اور وقار کی حفاظت کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ میں بھی یہی قانون رائج ہے جبکہ وہاں قومی پرچم کو بہت تیزی سے لہریا اور بہت ہی آرام سے اور آہستہ آہستہ اُتارا جاتا ہے۔
جبکہ ان ممالک میں رات کے وقت پرچم کو بلند کرنا یا کم روشنی میں پرچم بلند کرنا اس کی حرمت کرنے کے برابر تصور کیا جاتا ہے جس کے لئے باقاعدہ طور پر قانونی چارہ جوئی بھی کی جاتی ہے۔