یہ اب بھی ماں کو یاد کرتے ہوئے رو جاتے ہیں۔۔ وہ مشہور شخصیات کونسی ہیں جو خوشی کے موقع پر اب بھی ماں کو یاد کرتی ہیں؟

image

ماں ایک ایسی ہستی ہے جو کہ دنیا بھر کے سکھ کے برابر بھی نہیں ہو سکتی، ماں کے دوپٹے میں جو خوشبو ہوتی ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ چاہے مشہور شخصیت ہو یا پھر کوئی عام شخص، اپنی ماں کے لیے وہ ایک ہی احساس رکھتا ہے، اور وہ احساس ہے محبت کا۔ جبکہ باپ شفقت کا سایہ ہوتا ہے، جو کہ ہر وقت یہ احساس دلاتا ہے کہ میں اپنے والد کی وجہ سے محفوظ ہوں۔

آج آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح ان 5 مشہور شخصیات نے اپنے والدین کو یاد کرتے ہیں اور افسردہ ہو جاتے ہیں۔

صبور علی:

صبور علی کا شمار پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے، آن اسکرین اپنے جذبات سے لوگوں کو متاثر کرنے والی صبور علی اپنی والدہ کو یاد کرتے ہوئے اکثر اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی ہیں اور آنسوں ان کی آنکھوں سے چھلک ہی جاتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں صبور کا کہنا تھا کہ میری والدہ ہیں، وہ یہیں ہیں میرے آس پاس، میں انہیں محسوس کرتی ہوں، میری والدہ مجھے دیکھتی ہیں۔

جبکہ ایک اور انٹرویو میں صبور کا کہنا تھا کہ میری والدہ آئی سی یو سے ڈرتی تھیں، اسی لیے ہم نے بھی انہیں آئی سی یو میں رکھا زیادہ۔ وہ بہت تکلیف میں تھیں اگر ہم انہیں بچانے کے لیے آئی سی یو میں رکھتے تو انہیں تکلیف ہوتی۔

ایمن خان:

مشہور پاکستانی اداکارہ ایمن خان کے والد کا کچھ سال پہلے انتقال ہوا تھا مگر انہیں آج بھی یقین نہیں ہوتا کہ ان کے سر سے باپ کی شفقت کا ہاتھ اٹھ چکا ہے۔

ہر خوشی کےموقع پر ایمن اپنے والد کو نہ صرف یاد کرتی ہیں بلکہ ان کی کمی شدید محسوس کرتی ہیں۔ اپنے احساسات کا اظہار وہ کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر کر چکی ہیں۔

بلاول بھٹو:

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو ویسے تو سوشل میڈیا پر کافی فعال رہتے ہیں اور ہر موقع پر اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ والدہ کی وفات کے بعد بلاول نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ بہنوں کو بھی ہمت اور حوصلہ دیا۔

بلاول اپنی بہن کی شادی کے موقع پر افسردہ ہو گئے تھے، والدہ کی یاد نے انہیں افسوس میں مبتلا کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ شئیر کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے والدہ بھی خوش ہوں گی اور وہ ہمیں دیکھ رہی ہوں گی۔

عمران خان:

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج جس مقام پر ہیں وہ مقام انہیں اپنی والدہ کی وجہ سے ملا ہے، وہ ہمیشہ اپنی والدہ کی کہی باتوں پر عمل پیرا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ والدہ کو جان لیوا مرض کینسر لاحق ہے تو انہوں نے ہر ممکن کو کشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ جب کبھی کینسر کا لفظ سنتے ہیں یا کینسر سے متعلق موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ دکھ اور تکلیف باخوبی محسس کر لیتے ہیں کیونکہ خود ان کی والدہ بھی اسی مرض میں مبتلا ہوکر جہان فانی سے کوچ کر گئی ہیں۔

مریم نواز شریف:

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا اپنی والدہ سے ایک گہرا تعلق تھا، ویسے تو ہر ماں اور بیٹی کا رشتہ مظبوط ہوتا ہے مگر مریم نواز اور انکی والدہ کلثوم نواز کا رشتہ کافی مضبوط تھا۔

سیاسی جدوجہد ہو یا پھر گھریلو پریشانی، یا پھر والد کی گرفتاری کلثوم نواز اور مریم ایک دوسرے کے زخموں پر مرحم رکھتے نظر آئے ہیں۔ مریم ہر موقع پر اپنی والدہ کو نہ صرف یاد کرتی ہیں بلکہ یہ یادیں انہیں والدہ کی کمی شدید محسوس کراتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US