چلتا پھرتا بم یا ٹائم بم ایک ایسا بم ہے جو کہ گھروں، گاڑیوں میں موجود ہوتا ہے، کسی بھی وقت یہ بم بھٹ سکتا ہے اور پھر تباہی ہی تباہی ہوتی ہے۔ یہ بم سلینڈر کی شکل میں اکثر و بیشتر گھروں میں موجود ہے اور گاڑیوں میں نصب ہے۔
ان سلینڈرز کا استعمال آج کے دور میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب سلینڈر کی قیمت بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔ لیکن جہاں اس سلینڈر نے فائدہ پہنچایا ہے وہیں عوام کو نقصان بھی پہنچا چکا ہے۔
پاکستان میں صرف 2021 میں ہی گیس سلینڈر دھماکہ کے درجن سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔ جبکہ ان واقعات میں متعدد افراد اپنی جان سے پاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
بہت زیادہ نہیں لیکن واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں، جن میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اسکول وین میں دھماکہ:
گیس لیکچ سے دھماکہ ہوا اور بچے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسا تھا جس نے دل دہلا دیا تھا مگر بے حسی کہیے یا معمول کی بات۔ ہم اس حد تک ان چیزوں کے عادی ہو گئے ہیں کہ اب فرق نہیں پڑتا۔
لیکن ان معصوم کلیوں اور پھولوں کا کیا قصور تھا جو اس گیس دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی تو کھیلنے کودنے کی عمر تھی۔ گیس لیکچ نے اسکول وین میں موجود 17 بچوں کی جان لے لی تھی۔
ٹرین حادثہ:
2019 میں پیش آنے والا حادثہ بھی کوئی بھولا نہیں ہے، جب ٹرین میں سلینڈر سے گیس لیکچ کی وجہ سے 73 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے تھے۔ اس حادثے سے ہم سبق سیکھ سکتے تھے مگر ہر حادثہ کے بعد ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔
گھر میں گیس لیکچ سے دھماکہ:
اسی طرح کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں گیس لیکچ کی وجہ سے ہونے والے دھماکہ سے ایک بچہ جاں بحق ہو گیا تھا، جبکہ گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ اس حادثے نے بھی آنکھیں نہیں کھولی تھیں۔
وین میں گیس لیکچ:
9 اگست 2021 کو بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے جس میں گیس کی لیکچ یا سلینڈر دھماکہ کی وجہ سے 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ راولپنڈی سے گجرانوالہ جانے والی اس مسافر میں وین میں اس وقت دھماکہ ہو گیا جب وین کو پیچھے سے ٹرک نے ٹکر ماری، ٹرک کی ٹکر سے وین میں موجود سلینڈر پھٹ گیا اور ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے آسمان پر کالا دھواں نمودار ہو گیا اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی تھی۔
یہ وہ واقعات ہیں جو کہ خبروں میں آئے ہیں اس کے علاوہ کئی واقعات ہیں جو کہ میڈیا کی نظر سے نہیں گزرے ہیں۔
گھروں اور مسافر بسوں میں موجود یہ ٹائم بم ایک ایسا خطرہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، یہی کچھ ان واقعات میں بھی ہوا ہے۔
حکومتی نااہلی واضح ہے، جہاں حکومت کو مسافر بسوں میں سلینڈر کے استعمال پر پابندی عائد کرنی چاہیے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دینی چاہیے۔
وہیں عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں کس بلا کو لے کر آرہے ہیں جو کہ خود انہی گھر والوں کے لیے ازیت بن سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔ دوسری طرف سماج اس حد تک بے حس ہو گیا ہے کہ اب کسی بڑے سانحہ پر بھی اظہار غمی ہوگا اور پھر اپنی اپنی دنیا میں مگن ہو جائیں گے۔