غریب کا بچہ بھوکا رہے تو میرا بچہ پیٹ بھر کر کیسے کھائے ۔۔ 4 ایسی مشہور شخصیات جو ہر وقت لوگوں کے دُکھ سُکھ میں کام آتے

image

انسانیت سے بڑھ کر دنیا میں کچھ نہیں ہے، چاہے مذہبی اعتبار سے ہو یا معاشرے کی بقاء کی خاطر، ہر لحاظ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے جس کی اعلیٰ مثال دنیا بھر میں لاکھوں با استطاعت لوگ ہیں، انہی میں این جی اوز کا بھی اپنا کردار ہے۔ مگر کچھ ایسے افراد آج بھی پاکستان میں کام کر رہے ہیں جو یہاں کے لوگوں کی مدد میں اپنی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، جیسے ایدھی صاحب جن کی زندگی صرف لوگوں کی مدد میں تمام ہوئی، رمضان چھیپا، ظفر عباس اور صارم برنی جیسے نام آج بھی انسانیت کی مثالوں میں اولین ہیں۔

٭ ظفر عباس:

مشہور سماجی کارکن ظفر عباس جو ہر وقت لوگوں کی مدد کے لئے پیش پیش رہتے ہیں، مگر 2020 کے سخت ترین لاک ڈاؤن میں لاکھوں لوگوں کے گھروں میں گھر بیٹھے راشن پہنچایا، عید کے کپڑے اور جس قدر امداد ممکن ہوئی انہوں نے کی، یہ سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہے انہوں نے عام لوگوں کی ہی نہیں بلکہ مشہور لوگوں کی بھی مدد کی ۔ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ: '' ایک غریب کا بچہ بھوکا سوئے اور میرا بچہ پیٹ بھر کر کھائے یہ کیسے ہوسکتا ہے، میں بھی باپ ہوں، مجھے بھی لوگوں کے درد کا ان کی اولاد کا بالکل ایسا ہی خیال ہے جیسے اپنی اولاد کا ہے۔ ''

٭ صارم برنی:

سماجی کارکن صارم برنی اور ان کی اہلیہ بھی ہر وقت معصوم بچوں اور بے گھر افراد کی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں اور اب تو یہ سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہوتے ہیں اور بے اولاد جوڑوں کو اپنے پالنے میں موجود لاوارث بچوں کی کسٹڈی زیادہ سے زیادہ دے رہے ہیں تاکہ خواتین بے اولادی کا طعنہ سننے سے بچ جائیں اور بچوں کو بھی ایک سائباں مل جائے۔

٭ رمضان چھیپا:

رمضان چھیپا کی چھیپا فاؤنڈیشن پاکستان کی دوسری بڑی انسانیت دوست فاؤنڈیشن ہے جہاں لاکھوں لوگوں کے لئے روزانہ کا دسترخوان، رہائش اور غریب بچیوں کے جہیز کے لئے امداد کی جاتی ہے۔

٭ ایدھی:

کسی تعارف کے محتاج نہیں، ایدھی وہ شخص ہے جس نے مرتے وقت اپنی آنکھیں بھی لوگوں کی بھلائی کے لئے امداد کردیں۔ ان کے بعد آج ان کی بیگم اور بیٹا فیصل ایدھی کام کر رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US