ویسے تو سیاست دان کئی مرتبہ عوام کے غصے کا نشانہ بن جاتے ہیں کبھی کسی عوامی مرکز پر تو کبھی الیکشن مہم کے دوران۔ ان سب میں ایک سیاست دان اس غصے کا شکار بن جاتا ہے جو کہ اسے سرکار پر نکالنا چاہیے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی اس عوامی غصے کا شکار ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ دوبارہ پیش آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ایک شخص مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو چور چور کہہ کر مخاطب کر رہا تھا، اس شخص کا غصہ اس حد تک تھا کہ وہ بے ساختہ مریم نواز کو چور کہہ رہا تھا۔
لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے نیچے ایک پاکستانی نے اس وقت توجہ حاصل کر لی جب وہ مریم نواز کے پاپا کو چور کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لندن رہائش گاہ کے باہر نواز شریف کے گارڈ نے پاکستانی شخص سے اس طرح کے عمل کر روکنے کو کہا جس پر پاکستانی شخص آپے سے باہر ہو گیا۔ شاید وہ یہ پاکستانی اپنے آپ کو پاکستان میں سمجھ رہا تھا جبھی اس طرح آزادانہ طور پر بعرے بازی کر رہا تھا۔
کیا پاکستانی شہری کا یہ عمل صحیح تھا؟
ہو سکتا ہے پاکستانی ہونے کے ناطے اس شخص کے جذبات اپنے ملک سے متعلق زیادہ ہوں مگر اس طرح ایک پاکستانی کی حیثیت سے سوائے پاکستان کو بدنام کرنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اگر چہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کے حوالے سے خبریں منفی ہوتی ہیں مگر جس طرح نعرے بازی کی جاتی ہے اس سے پاکستان کی ساکھ کافی متاثر ہوتی ہے۔