کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جس کی کل آبادی حکومت پاکستان کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ہے۔ مگر پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلائے جانے والے شہر کہی مسائل کا شکار ہے۔ جس میں سب سے بڑا مسلہ صاف پانی کا ہے۔
شہر میں پانی کی کمی کی وجہ سے شہری زیر زمین پانی نکلنے پر مجبور ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ، زیر زمین پانی نکلنے پر ایک روپے فی لیٹر قیمت وصول کی جائے۔ تاہم ٹیکس وصول کرنے کہ حوالے سے طریقہ کار پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا جاسکا اور اس بات کی بھی وضاحت نہیں ہے کہ کس شخص نے کتنی مقدار میں پانی نکالا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کراچی کو روازنہ 750 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے جو کہ انڈس ریور اور حب ڈیم سے آتا ہے۔ تاہم کراچی سیوریج بورڈ کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے کراچی کو تقریباً 500 ملین گیلن پانی ترسیلی ہوپاتی ہے۔