آفس میں ایک شخص چاہے مرد ہو یا عورت کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ان سب میں ایک عورت کو کئی مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ جب وہ عورت ماں بنتی ہے تو اسے گھر اور آفس کے ساتھ ساتھ اپنے نوزائدہ بچے کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔
اکثر خواتین دفاتر سے چھٹیاں لے لیتی ہیں لیکن کئی ایسی بھی ہیں جنہیں چھٹیاں نہیں ملتی ہیں، ایسی صورتحال میں وہ مجبورا اپنے بچے کو بھی آفس لے آتی ہیں۔
آج ایسے ہی چند واقعات کے بارے میں بتائیں گے جس میں خواتین دوران ڈیوٹی اپنے نوزائدہ بچوں کو بھی لے آئیں۔
سرکاری آفیسر:
سارہ تواب کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے۔ جبکہ سارہ تواب اس وقت خبروں کی زینت بن گئی تھیں جب وہ بطور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اپنے نوزائیدہ بچے کو بھی دوران دورہ لے آئی تھیں۔
سارہ نے اپنے نوزائیدہ بچے کو ایک طرف لیا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف سے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ ان کے اس عمل کو عوام نے خوب سراہا ہے، عوام کو کہنا ہے کہ وہ سارہ تواب کی فرض شناسی کو سراہتے ہیں۔
فٹبال کھلاڑی:
امریکہ سے تعلق رکھنے والی مرگن ٹکر بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو کہ اپنے 2 سالہ بیٹے کو اپنے ساتھ فٹبال میچ کھیلنے لے آئیں۔ وہ اپنے بیٹے کو اسی نیت سے لائی تھیں کہ سامنے ہوگا تو نظر میں رہے گا اور میچ دیکھتا رہے گا۔
مگر دو سالہ بچہ دوران میچ فٹبال گراؤنڈ میں آگیا تھا، بچے کو گراؤنڈ میں دیکھ کر ماں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ لیکن ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں نے بچے کو گود میں لیا اور گراؤنڈ سے باہر چھوڑا۔
ماں اور بیٹے کے اس رشتے کو نہ صرف لوگوں نے دیکھا بلکہ اس کھلاڑی کی ہمت کو بھی داد دی۔
پولیس آفیسر:
پنجاب پولیس کی آفیسر عائشہ بٹ بھی انہی باہمت خاتون آفیسر میں شامل ہیں جو کہ اپنی بیٹی کو دوران ڈیوٹی اپنے ساتھ لے آتی ہیں۔ عائشہ بٹ پولیس کی ڈیوٹی بھی نبھاتی ہیں جبکہ اپنی بیٹی کو بھی گود میں لیے رکھتی ہیں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر بھی پولیس میں ہیں لیکن وہ اسلام آباد میں ڈیوٹی کرتے ہیں جبکہ میرا سسرال کراچی میں ہے اور میرے امی ابو گجراںوالہ میں رہتے ہیں۔ میری فیملی اور سسرال دونوں نہیں آسکتے ہیں تو اسی لیے میں اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ رکھتی ہوں بجائے کہ اسے کسی کے پاس چھوڑ کر جاؤں۔
بیٹی میرے پاس رہتی ہے تو میں پُر سکون ہو کر کام پر دھیان دیتی ہوں۔