میں نے بہت محنت کی تھی، مگر ڈر تھا کہ کہیں گھر والے منع ہی نہ کر دیں۔۔۔ جایے ان قوم کی بیٹیوں کی کہانیاں، جنہوں نے پوری دنیا میں نام روشن کیا

image

دنیا بھر میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہا خواتین اہم عہدوں پر فائز ہیں، پاکستان کے حوالے سے خبریں بہت کم ملتی ہیں لیکن ایسی بات نہیں ہے کہ یہاں خواتین کو سرکاری عہدے نہیں ملتے۔

آج ایسی ہی ایک خبر لے کر آئے ہیں، جس میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح ہمت، محنت اور لگن نے ان خواتین کو سی ایس ایس کے امتحان میں نہ صرف کامیاب کیا بلکہ ایک کامیاب مقام پر بھی پہنچا دیا ہے۔

گُل بانو:

مردان سے تعلق رکھنے والی گُل بانو نے اس وقت میڈیا کی توجہ حاصل کر لی تھی جب انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے 18 ویں گریڈ پر فائز ہوگئی ہیں۔

گُل بانو نے مردان کی تاریخ میں پہلی بار سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہے وہ اپنے شہر کی پہلی لڑکی ہیں جو اس مقام تک پہنچی ہیں۔

گُل بانو کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ میرے سی ایس ایس کا امتحان دینے پر میرے گاؤں والے کیا کہیں گے۔ مگر مجھے سب سے سپورٹ کیا اور مدد کی۔

شازیہ اسحاق:

شازیہ اسحاق کا تعلق پاکستان کے خوبصورت مقام چترال سے ہے۔ شازیہ بھی باصلاحیت خواتین میں شامل ہے، جو سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

شازیہ اسحاق نے بخوبی سی ایس ایس کا امتحان دے کر نہ صرف چترال کا بلکہ پورے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ شازیہ اسحاق کی کامیابی پر گھر والے اور گاؤں کے لوگ خوش ہیں۔

فوزیہ ذوالفقار:

فوزیہ ذوالفقار گلگت بلتستان سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ فوزیہ ذوالفقار اپنے صوبے گلگت بلتستان کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہے۔ فوزیہ اپنے اسکول کے دنوں میں بھی کامیاب طالب علم رہ چکی ہیں جبکہ اسی حؤالے سے والدین اور اساتذہ فوزیہ کے کردار کی تعریف کرتے ہیں۔

فوزیہ کہتی ہیں کہ میری آنکھوں میں آنسوں تھے اور میں اپنے والد کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس سے مجھے نہ صرف حوصلہ ملا بلکہ آگے بڑھنے میں بھی مدد ملی ہے۔

فاطمہ طارق:

فاطمہ طارق کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ فاطمہ پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے بہت چھوٹی عمر میں ہی سی ایس ایس کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی۔ فاطمہ نے یونی ورسٹی کی تعلیم کے دوران ہی سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی تھی۔

لاہور بورڈ میں پری میڈیکل میں ٹاپ کرنے والی فاطمہ نے پہلی بار ہی میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا تھا۔ فاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے کہا گیا تھا کہ تم میڈیکل میں جاؤ، لیکن فاطمہ کہتی ہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ لڑکیاں میڈیکل میں جائیں اور لڑکے انجینئیرنگ میں۔

میں اپنے گھر کی پہلی لڑکی ہوں جو کہ اس طرح کامیاب ہوئی ہوں، گھر والوں کو سمجھانے میں تقریبا 6 ماہ لگے تھے۔ کیونکہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی جلد ہی شادی کرا دی جاتی ہے.


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US