14 اگست ایسا دن ہے جب قائد اعظم محمد علی جناح نے اس قوم کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا، قائد نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ایک آزاد ریاست پاکستان کے لیے بھرپور محنت کی تھی۔
جب ہم اس دن کو یاد کرتے ہیں تو جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، اگر قائد اعظم ان مناظر کو دیکھ لیتے تو وہ ضرور اپنے فیصلے پر ایک نظر ڈالتے۔
قائد اعظم نے انصاف، ہمت، محنت، وقت کو ضائع کرنے سے منع، سمیت کئی اچھی باتیں بتائی تھیں مگر ان میں سے کوئی ایک بات بھی اس قوم نے نہیں کر کے دکھائی۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ہم شکل کو سڑکوں پر گھمایا جا رہا ہے اور لوگ داد دے رہے ہیں۔ باجے بجا کر، تالیاں بجا کر، چٹکلے چھوڑ کر۔
اس عمل میں صرف تماشائی ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر موجود کئی مشہور پیجز بھی شامل ہیں۔ کیا اس طرح قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے؟
ایک ایسا شخص جس نے مسلمانوں کی خاطر اپنا قیمتی وقت دے دیا، مسلمانوں کی خاطر کئی اہم آفرز کو مسترد کر دیا۔ اسے باجے بجا کر، ہم شکل بنا کر اور اوپر سے نعرے بازی اور تفریح کر کے خراج تحسین پیش کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ یہ پاکستانی قوم کے کچھ نوجوان اس ٹریک پر گامزن ہیں، جہاں سے وہ ڈگری تو حاصل کی لیں گے، نوکری بھی پالیں گے مگر ایک اچھے انسان نہیں بن پائیں گے۔