صدر اشرف غنی سے متعلق اہم تر تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ یہ کہ روسی میڈیا کے دعوے کے مطابق اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ پیسوں سے بھری 4 گاڑیاں اور ایک ہیلی کاپٹر بھی لے گئے ہیں۔
روسی میڈیا نے بتایا کہ افغان صدر جب پیسے لے کر فرار ہو رہے تھے تب وہ اپنے ساتھ کچھ رقم لے کر نہیں جا سکے کیونکہ رقم اتنی زیادہ تھی کہ رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔
وہیں دوسری جانب افغان طالبان کے چرچے آج کل پوری دنیا میں کیے جا رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں افغانستان بالخصوص کابل میں قبضے کر کے اپنی حکومت قائم کی اور نئے قوائد و ضوابط لاگو کیے۔
طالبان کی کابل پیش قدمی کے بعد افغان صدر اپنی صدارت چھوڑ کر کابل سے تاجکستان فرار ہوگئے تھے جس کے بعد طالبان نے سب کچھ اپنی تحویل میں لے لیا۔
آج بھی لوگوں میں یہ سوال زیر گردش ہے کہ طالبان کا اصل رہنما کون ہوگا جو آگے چل کر قیادت چلانے میں کامیاب ہوسکے گا؟
1- ملا ہیبت اللہ اخونزادہ
اس وقت طالبان یا امارت اسلامی افغانستان کے امیر یا سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں، ہیبت اللہ کی عمر پینتالیس سے پچاس سال کے درمیان ہے اور وہ قندھار کے علاقے پنجوائی میں پیدا ہوئے تھے، ان کا تعلق نور زئی قبیلے سے ہے۔
ہیبت اللہ اخونزادہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے طالبان کی سمت و رفتار کو تبدیل کیا اور اس تنظیم کو اِس کی موجودہ حالت میں لانے میں ان کا اہم کردار ہے۔
2- ملا عبدالغنی برادر
ملا عبدالغنی برادر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہ چکے۔ ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔ ان کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔
3- مولوی محمد یعقوب
مولوی محمد یعقوب افغان طالبان کے نائب امیر بھی ہیں جب کہ انھیں اس سال مئی کے مہینے میں سکیورٹی چیف کے عہدے پر فائز کیا گیا، ان کی تعیناتی پہلے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ نے کی تھی۔
4- سراج الدین حقانی
سراج الدین حقانی افغان طالبان کے دوسرے نائب صدر ہیں اور یہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کے صاحبزادے ہیں۔
یہ ہیں وہ نام جن میں سے طالبان کا اہم رہنما بنے گا اور آگے مستقبل میں قیادت سنبھالے گا۔