قاسم علی شاہ سے کون واقف نہیں۔ قاسم علی شاہ بنیادی طور پر ایک موٹیویشنل اسپیکر ہیں اور کئی کتابوں کے مصنف بھی۔ خاص طور پر نوجوان نسل انھیں بہت زیادہ پسند کرتی ہے کیونکہ وہ زیادہ تر ان کے ہی مسائل پر بات کرکے ان کا حل پیش کرتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو قاسم علی شاہ کی نجی زندگی کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں بتائیں گے
میرے اندر ماں اور باپ دونوں کی جھلک ہے
ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ان کی ذات میں ان کی والدہ اور والد دونوں کی ہی جھلک ہے لیکن کسی بھی بچے کا سب سے زیادہ وقت اس کی ماں کے ساتھ گزرتا ہے اس لئے ماں کے ساتھ زیادہ قربت رہی لیکن والد کے ساتھ بھی بڑے ہوتے ہوتے دوستی ہوگئی۔
میری ارینج میرج ہوئی
قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ان کی شادی اس دور میں ہوئی جب موبائل فون کا زمانہ نہیں تھا اور کئی کئی گھنٹہ بسوں میں دھکے کھا کر کہیں پہنچنا پڑتا تھا اور چونکہ ان کی ارینج میرج ہوئی تھی اس لئے پہلی ملاقات بھی شادی کے بعد ہوئی۔
بچوں کو خود اسکول چھوڑنے جاتا تھا
بچوں سے اپنے تعلق کے بارے میں بتاتے ہوئے قاسم علی شاہ نے کہا کہ جب بچے چھوٹے تھے تو وہ اپنی تمام مصروفیت کے باوجود انھیں اسکول چھوڑنے خود جاتے تھے اور واپس بھی لے کر آتے تھے۔ لیکن جب وہ تھوڑے بڑے ہوگئے تو کبھی اپنے دادا کے ساتھ یا والدہ کے ساتھ اسکول جانے لگے۔ قاسم علی شاہ نے بتایا کہ ان کے بچپن میں والدین بچوں سے بہت سے معاملات پر بات نہیں کرتے تھے لیکن وہ اپنے بچوں کو ہر طرح کی معاملات خود دیتے ہیں اور ان کے مسائل سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
بچوں کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری تو تقریروں کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ انسان کیرئیر کے لئے وہی منتخب کرے جو اس کا دل چاہتا ہے اس لئے میں بچوں پر اپنی مرضی تھوپنے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے بیٹے کو جانوروں سے بہت لگاؤ ہے تو شاید وہ اپنا فارم بنائے جبکہ بیٹی کو تیچر بننے کا شوق ہے اور اس میں لیڈرشپ کوالٹیز بھی ہیں تو وہ شاید ٹیچر ہی بن جائے۔
بیگم کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا
اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے اپنا زیادہ وقت اپنے کام کو دیا یہاں تک کہ بیگم کے حصے کا وقت بھی اپنے کام کو دیا جس پر کبھی کبھی وہ شکایت کرتی ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ شکایت اپنے ہی کرتے ہیں اور ایک ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزارنا جو اپنے نظریات کو لے کر چلتا ہو یہ آسان بات نہیں ہے۔