بی بی کی زمین میں نے بچوں کو دے دی ۔۔ جانیے زرداری سے متعلق ایسی باتیں، جو یقینا آپ کو بھی معلوم نہیں ہوں گی

image

پاکستانی سیاست دانوں سے متعلق منفی خبریں پھیلانا اور انہیں بدنام کرنا عام بات ہے، اسی طرح ان سیاست دانوں سے منسوب کچھ ایسی باتیں بھی کہی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

مگر آج جس سیاست دان سے متعلق خبر آپ تک پہنچائیں گے وہ کچھ ایسی شخصیت کے مالک ہیں جنہیں پاکستانی عوام کچھ اچھا اور کچھ بُرا سمجھتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما آصف علی زرداری کے بارے میں کچھ ایسی معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ کو معلوم نہ ہوں۔

پاکستان میں ایک طقبہ کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری سینما ٹکٹ بلیک میں فروخت کیا کرتے تھے، لیکن آصف علی زرداری نے ناقدین کو کبھی اس طرح جواب نہیں دیا اور ہمیشہ صبر کیا ہے۔

لیکن ایک موقع پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ بمبینو سینما کا مالک تھا، مگر بمبینو ایک چیمبر تھا، جو کہ 1963 میں کھلتا ہے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری والدہ نے اس زمانے میں ساتویں فلور پر ایک پینٹ ہاؤس بنوایا تھا جو کہ ساڑھے تین لاکھ کا، یہ وہ زمانہ تھا جب 12 ہزار کی کورولا آتی تھی۔

آصف علی زرداری کا انٹرویو میں منفی باتیں کرنے والوں کو کہنا تھا کہ الحمد اللہ اگر ہم ایک پینٹ ہاؤس اس زمانے میں ساڑھے تین لاکھ روپے کا بنوا سکتے تھے تو الحمداللہ اللہ کا کرم تھا نا۔

آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جب میری بے نظیر سے شادی ہوئی تو اس وقت میرا اپنا گھر تھا، وہ گھر 7 ہزار گز کا ہے، جس پر میں بلڈنگ بنا رہا ہوں۔

میری اپنی زمینیں ہیں جن کی میں نگرانی بھی کرتا ہوں اور ان کے ذریعے کماتا ہوں۔ بچوں کی زمینیں مینیجر دیکھتا ہے جبکہ میری زمینیں میں دیکھتا ہوں۔

اسلامی قانون کے تحت بی بی کی زمین جو ملی وہ میں نے بیٹیوں کو دے دی تھی مگر ایک ایکڑ میں نے اپنے نام رکھا ہے۔ میری آمدن کا سالانہ حصہ زمین داری سے آتا ہے جبکہ بزنس سے وہ خرچہ آتا ہے جب پراجیکٹس مکمل ہوتے ہیں۔ میری اپنی زمینیں ہیں جن میں کنسٹرکشن کرواتا ہوں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US