گوری رنگت کا معیار معاشرے میں حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ لڑکیاں دیکھتے وقت لڑکی کی رنگت اور ناک نقشے کو ملحوظِ خاص رکھا جاتا ہے کہ لڑکی گوری ہو پیاری ہو لیکن وہیں بات اگر ہم لڑکوں کی کریں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر مرد حضرات کی رنگت سانولی ہوتی ہے مگر ان کی بیگمات حسین ترین ہوتی ہیں۔
اس کی مثال آپ کو ہم ٹی وی کے ڈرامے پری زاد میں ملتی ہے جہاں لڑکے کا رنگ کم ہے وہ کالا ہے تو لوگ اس کے رنگ پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں نتاشہ حسین جوکہ لڑکی کی ماں ہیں وہ احمد علی اکبر کو کہتی ہیں کہ:
''
سُنو لڑکے! یہ رنگ روپ مڈل کلاس فیملی کی باتیں ہیں، گورے یا کالے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بس پیسہ ہونا چاہیئے، خود کو اتنا امیر کرو کہ تمہاری کالی رنگت کسی کو بُری نہ لگے اور تم بے عیب ہو جاؤ، جاؤ اپنے حسے کی دولت لوٹ لو تاکہ میری ایک بیٹی جیسی ہزاروں لڑکیاں تمہارے آگے پیچھے دوڑیں۔''
اس سے صاف واضح ہے کہ مردوں کو اپنے رنگ روپ پر نہیں بلکہ پیسہ کمانے پر توجہ دینی چاہیئے ہمارا معاشرہ صرف اور صرف مرد کو پیسے اور عورت کو خوبصورتی کی وجہ سے پسند کرتا ہے۔
پیسہ وہ واحد چیز ہے جس کی وجہ سے جرئم میں اضافہ دن بہ دن ہو رہا ہے اور ہماری نوجوان نسل ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کفایت شعاری سے کام لیا جائے کیونکہ عورت جتنے زیادہ خرچے کرتی ہیں، مردوں پر اتنا ہی ذہنی فکرِ معاش اور دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔