دونوں بیٹے ساتھ گئے اور ساتھ ہی شہید ہو گئے، ماں کا دل گھبراتا رہا۔۔ جانیے ان شہیدوں کی کہانی جو اپنے گھروں کو ویران کر گئے

image

شہادت ایک ایسا رتبہ ہے جو کہ آسانی سے نہیں ملتا، اور اگر بات ہو گھر والوں کی تو شہید شہادت کے وقت بھی گھر والوں ہی کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے۔

ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی شہادتوں کے بارے میں بتائیں گے جس میں دو سگے بھائی شہید ہو گئے اور ماں انہیں آج بھی یاد کرتی ہے۔

دو سگے بھائی:

لاہور سے تعلق رکھنے والے غلام مرتضٰی اور علی رضا کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا۔ دونوں سگے بھائ 24 جولائی 2017 کو فیروزپور روڈ پر واقع ارفع کریم ٹاور پر ہونے والے بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔ دونوں سگے بھائی آں ڈیوٹی تھے، جس وقت دہشت گردوں نے یہ بزدلانہ کاروائی کی۔

بھائی سجاد احمد کہتے ہیں کہ دونوں بھائی اس حملے میں شہید ہوئے تھے، علی اور غلام مرتضٰی دونوں کو بے حد شوق تھا کہ وہ بھی میری طرح پولیس کا حصہ ہوں۔ دونوں بھائی ایک ساتھ پولیس ٹیسٹ کے لیے گئے تھے، کامیاب دونوں ساتھ ہوئے، دونوں کی ساتھ ہی ڈیوٹی لگی اور دونوں ساتھ ہی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ جبکہ بھائی کہتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کو ملک کی خاطر جان قربان کرنے کا شوق تھا، اور اسی جذبے کے تحت وہ پولیس کو جوائن کرنا چاہتے تھے۔

جبکہ والدہ بات کرتے ہوئے رو گئیں وہ کتہی ہیں کہ غلام مرتضٰی اپنی بچیوں سے بے حف پیار کرتے تھے، وہ بیٹی کشف سے بے تحاشہ پیار کرتے تھے۔ والدہ کہتی ہیں کہ جب بیٹے گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکلے میرا دل نہیں مان رہا تھا، میرا دل گھبرا رہا تھا۔ مجھے اجیب سے گھبراہٹ ہو رہی تھی اس دن۔

والد چوہدری نظیر حسین کا کہنا تھا کہ ان دنوں بہت دھماکے ہوتے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ دونوں زخمی ہو گئے ہیں۔

نجم ریاض شہید:

کیپٹن نجم شہید 11 مئی 2009 کو کیپٹن نجم اور ان کے ساتھیوں نے اپنے ہاتھوں سے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا اگرچہ وہ بھی شہید ہو گئے تھے مگر دشمن پر واضح کر دیا تھا کہ جاںباز سپاہی ہتھیار کی پرواہ نہیں کرتا ہے۔

ان کی شہادت کا واقعہ بھی اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا۔ کیپٹن نجم اور ان کے ساتھی 19 اپریل کو سوات کے خوازاخیلہ بازار میں گشت کر رہے تھے کہ تب ہی دہشت گردوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا تھا، لیکن ںظام عدل معاہدہ کے تحت جوان ان دہشت گردوں کا مار نہیں سکتے تھے۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے جوانوں کو اغواء کر لیا تھا۔

دراصل یہ دہشت گرد ان جوانوں کے بدلے اپنے کا ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن جوانوں نے اس بدلے کو قبول نہیں کیا۔ جوانوں نے اپنے ہاتھوں سے ان دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا۔ تمغہ بسالت شہید نجم ریاض نے اگرچہ شہادت کا مرتبہ پا لیا مگر دہشت گردوں پر ایک بات واضح کر دی تھی، کہ پاک فوج کے جوان ہتھیاروں کے بل پر نہیں لڑتے بلکہ وہ ہر لحاظ سے مہارت رکھتے ہیں۔

نجم اپنے گھر میں سب سے چھوٹے بیٹے تھے، وہ اپنی والدہ کے دلارے تھے، والدہ سے بے حد پیار کرتے تھے۔ والدہ بھی نجم کو کبھی بھول نہیں پاتی ہیں، وہ گھر آتے ہی والدہ کو تکتے تھے، ان کی نظریں جب تک والدہ کو نہیں دیکھ یتی تھیں انہیں تسلی نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ والدہ بھی اشکبار ہیں اور انہیں یاد کر کے افسردہ ہو جاتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US