سال 2026 کا سورج پاکستان میں نئی امنگوں، امیدوں اور خوابوں کے ساتھ طلوع ہو گیا۔ نئے سال کا آغاز دعاؤں، بارانِ رحمت اور بہتر مستقبل کی امیدوں کے ساتھ ہوا۔
کراچی میں نئے سال کا پہلا سورج صبح 7 بج کر 17 منٹ پر طلوع ہوا۔ مساجد میں ملکی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بالخصوص پاکستان کے لیے امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے باعث شہری نئے سال کا سورج نہ دیکھ سکے تاہم بارانِ رحمت کو قدرت کی جانب سے ایک بڑی نعمت اور نئے سال کی خوش آئند شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔ صبح سویرے گرج چمک کے ساتھ ہونے والی شدید بارش سے شہر جل تھل ہو گئے۔
نئے سال کے پہلے دن کا آغاز جڑواں شہروں کی مساجد میں نمازِ فجر سے ہوا۔ بارش کے باوجود باجماعت نماز میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ نماز کے بعد پاکستان کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور مضبوط مستقبل کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو نئے سال 2026 کی مبارک باد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ 2025 کا سال دفاعِ وطن کے اعتبار سے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اور قوم نے شانہ بشانہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنا کر معرکۂ حق میں تاریخ رقم کی۔
وزیراعظم نے دعا کی کہ نیا سال خوشیوں، خوشحالی اور اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ طلوع ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے سال کا ہر دن ملکی سالمیت، قومی ہم آہنگی اور معاشی آسودگی کو مزید مضبوط کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شاہینوں نے فضائی حدود کا ناقابلِ تسخیر دفاع کر کے دنیا کے لیے ایک مثالی کامیابی اور جنگی حکمتِ عملی کا سبق پیش کیا۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور حالیہ معاشی اشاریوں میں بہتری درست پالیسیوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ انقلابی معاشی اصلاحات کو سال 2026 میں مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم نے عالمی سطح پر امن، رواداری اور بقائے باہمی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی مخلصانہ کاوشیں جاری رکھے گا جبکہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قوم کے نام پیغام میں کہا کہ اگرچہ پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، مگر قوم بے اختیار نہیں۔ اتحاد، حوصلے، تخلیقی سوچ اور پختہ یقین کے ذریعے ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قومی ذمہ داریوں کا ازسرِنو احساس کرنے اور درپیش مسائل کا دانشمندی سے مقابلہ کرنے پر زور دیا۔