بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی اور طلبا رہنماؤں پر مشتمل سیاسی جماعت ’این سی پی‘ کا اتحاد انڈیا کے لیے باعث تشویش کیوں؟

ناقدین ’این سی پی‘ کو جماعتِ اسلامی کی ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہیں۔ این سی پی رہنماؤں نے حالیہ مہینوں میں اپنے انڈیا مخالف بیانیے کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انڈیا کو جماعت اور این سی پی اتحاد پر کیا تحفظات ہیں؟
بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
@BJI_Official
بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جولائی 2024 میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی رہنما کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔

این سی پی نے ملک میں متبادل سیاست کی بات کی لیکن ناقدین انھیں جماعتِ اسلامی کی ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہیں۔

این سی پی کے رہنما انڈیا کی حکومتی پالیسیوں پر کُھل کر تنقید کرتے ہیں اور گذشتہ چند ماہ کے دوران اس جماعت نے اپنے انڈیا مخالف بیانیے کی وجہ سے بھی شہرت حاصل کی۔

اب جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات میں محض دو ماہ باقی ہیں، تو این سی پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اُترے گے۔

ناقدین کے مطابق اس اعلان نے اس دلیل کو مزید تقویت دی کہ این سی پی دراصل جماعت اسلامی ہی کی ’بی ٹیم‘ ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 1971 میں جماعتِ اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف اور پاکستان کے حق میں مؤقف اپنایا تھا اور اب یہ جماعت، این سی پی اسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر رہی ہے۔

دسمبر میں این سی پی کے چیف آرگنائزر حسنَات عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کیا گیا تو انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں، جنھیں ’سیون سسٹرز‘ (سات بہنیں) کہا جاتا ہے‘ کو توڑ دیا جائے گا۔

ان ریاستوں میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں۔

حسنَات عبداللہ نے اپنے اس متنازع بیان کے دو روز بعد ڈھاکہ میں انڈیا کے ہائی کمشنر کو بھی ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے ہائی کمشنر کو ملک بدر کر دینا چاہیے تھا کیونکہ اُن کا ملک شیخ حسینہ کو پناہ دے رہا ہے۔‘

نیشنل سٹیزن پارٹی پر کیوں سوالات اٹھ رہے ہیں؟

ناہید الاسلام ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
Getty Images
ناہید الاسلام ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

جماعت اسلامی اور این سی پی کے اتحاد پر انڈیا میں بھی بحث جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر فروری 2026 کے انتخابات میں اس اتحاد کو کامیابی ملتی ہے تو اس کے اثرات انڈیا پر مرتب ہوں گے۔

انڈیا کے سٹریٹجک اُمور کے ماہر برہما چیلانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کو پُرتشدد طریقے سے اقتدار سے ہٹانے کے دوران اسلامی قوتوں، خاص طور پر جماعتِ اسلامی کے طلبا ونگ نے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کو بڑی حد تک توانائی فراہم کی۔ اب انھی طلبا مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے باضابطہ طور پر جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔‘

برہما چیلانی نے مزید لکھا کہ ’دوسرے بڑے اتحاد کی قیادت کرنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھی اسلامی قوتوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔ بی این پی کا اتحاد جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔‘

ان کے مطابق ’ملک کی سب سے بڑی اور سیکولر سمجھی جانے والی عوامی لیگ پر پابندی کے بعد، فروری کا انتخاب اب دو ایسے اتحادوں کے درمیان مقابلہ بن گیا جو اسلامی قوتوں کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی بنیاد کے اصولوں سے ایک اہم اور علامتی انحراف کو ظاہر کرتا ہے۔‘

اسی دوران انڈین اخبار ’دی ہندو‘ کے بین الاقوامی امور کے مدیر سٹینلی جونی نے ایکس پر لکھا کہ ’این سی پی گذشتہ برس ہونے والی طلبا تحریک کا وراث ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ پارٹی کے قیام کے وقت اس کے رہنماؤں نے خود کو بنگلہ دیش کی روایتی جماعتوں کے مقابلے میں ایک معتدل اور اصلاح پسند متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لیکن اب یہی پارٹی جماعتِ اسلامی کے ساتھ باضابطہ اتحاد میں شامل ہو گئی۔ یعنی انھی قوتوں کے ساتھ، جنھوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی تھی اور 1971 کے قتلِ عام کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔‘

جماعت اسلامی سے اتحاد کے فیصلے پر این سی پی کے اندر بھی کچھاختلافات دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی کے دو اہم رہنماؤں سمیت کئی خواتین رہنماؤں نے اس فیصلے کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔

بنگلہ دیش
@ChiefAdviserGoB
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن کے ساتھ

بنگلہ دیش کی سیاست کے تجزیہ کار ڈاکٹر مبشر حسن کا کہنا ہے کہ این سی پی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو گا کہ انڈیا مخالف سیاست کس حد تک آگے جاتی ہے تاہم ان کا ماننا ہے کہ انتخابی اتحاد فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

مبشر حسن نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں کہا کہ ’بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف ماحول کا مضبوط ہونا این سی پی اور جماعت اسلامی کی یکجہتی کی بڑی وجہ ہے۔‘

اُن کے مطابق این سی پی نے جن قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا، جن میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے، ان کا مقصد انڈیا مخالف جذبات کو ہوا دے کر عوامی تحریک کھڑی کرنا اور انتخابی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

’این سی پی کے چیف کوآرڈینیٹر ناہید حسن عوامی تحریک کے چہرے کے طور پر ایک الگ کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ایک سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر ان کا مستقبل روشن ہو گا یا تاریک، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ جماعت کو انڈیا مخالف اتحاد کے طور پر آگے بڑھانے کی ان کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔‘

دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر شمیم رضا کا ماننا ہے کہ این سی پی کو اتحاد میں شامل کرنے سے جماعت اسلامی کو کچھ حد تک فائدہ ہوا کیونکہ این سی پی کی شبیہ جماعت کے حلقے سے باہر کے ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مدد دے گی۔

انھوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’ایک بار پھر جماعت اسلامی کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ان مسائل پر این سی پی کو قریب لائے جن پر این سی پی رہنماؤں کی عوامی اور سوشل میڈیا پر موجودگی کے باعث تنقید ہوتی ہے تاہم جماعت کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے این سی پی کو کچھ سوالات کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔‘

جماعت سے اتحاد پر این سی پی میں بغاوت

مونیرہ شارمین
Monira Sharmin/Facebook
این سی پی کی مونیرہ شارمین نے انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کیا تاہم انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا

این سی پی کی مرکزی کمیٹی کے 30 رہنماؤں نے سنیچر کے روز پارٹی کنوینر ناہید اسلام کو خط لکھ کر جماعت کے ساتھ کسی بھی انتخابی اتحاد کی مخالفت کی تھی۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق شیخ حسینہ مخالف تحریک کی قیادت کرنے والی طلبا تحریک کے ایک کوآرڈینیٹر عبدالقادر نے فیس بک پوسٹ میں ناہید اسلام پر ’عوامی جذبات کے ساتھ کھیلنے‘ کا الزام لگایا۔

انھوں نے لکھا کہ ’نوجوانوں کی سیاست کی قبر کھودی جا رہی ہے۔ این سی پی بالآخر جماعت اسلامی کے ساتھ براہِ راست اتحاد کر رہی ہے۔ عوام اور کارکنوں کی امیدوں اور خواہشات کو کچل کر چند رہنماؤں کے مفاد کے لیے یہ خودکش فیصلہ کیا گیا۔‘

بی بی سی بنگلہ کے مطابق جماعت کے ساتھ انتخابی سمجھوتے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر کئی افراد نے شکایت کی کہ این سی پی کا وہ دھڑا جو جماعت کے ساتھ سمجھوتے پر پہنچا ہے، انتخابات سے پہلے ہی جماعت کی طرف جھک رہا ہے کیونکہ وہ ’جماعت نواز‘ ہے۔

جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کے بارے میں ایک خاتون رہنما نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ ’جماعتِ اسلامی ایک قابلِ اعتماد اتحادی نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ این سی پی کو اس کے سیاسی مؤقف یا نظریے کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون یا سمجھوتے پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

دوسری جانب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات یا سودے بازی میں جماعت سے زیادہ فائدے کی یقین دہانی کی وجہ سے ہی این سی پی کی اعلیٰ قیادت نے ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا فیصلہ کیا۔

بنگلہ دیش کے بڑے اخبار ’دی ڈیلی سٹار‘ نے تجزیہ کار اور مصنف محی الدین احمد کے حوالے سے لکھا کہ این سی پی ’ریاستی اقتدار پر مرکوز سیاست‘ کرتی ہے اور جہاں حالات اپنے حق میں دیکھتی ہے وہاں اتحاد کر لیتی ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے اتحاد کے انتخابات کے بعد زیادہ دیر تک قائم رہنے کا امکان نہیں ہوتا۔

ایک اور تجزیہ کار الطاف پرویز نے ڈیلی سٹار سے گفتگو میں کہا کہ ’ابتدا سے ہی این سی پی کے اندر دائیں بازو کا جھکاؤ موجود رہا۔ دوسری بات یہ کہ گذشتہ 17 ماہ میں عوام کے ایک بڑے حصے نے عبوری حکومت کی ناکامیوں کے لیے جزوی طور پر این سی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود حکومت کے سربراہ نے کہا تھا کہ انھیں طلبا نے نامزد کیا۔ ساتھ ہی یہ تاثر بھی عام رہا ہے کہ کئی مشیروں کی تقرری یا انتخاب طلبا نے ہی کیا۔‘

اس اتحاد کا جماعتِ اسلامی کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟

جماعت اسلامی
Getty Images

الطاف پرویز نے اس اتحاد کو جماعت کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں جماعت اسلامی کی شناخت ایک شریعت پر مبنی جماعت کے طور پر رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں ممالک میں موجود ہے۔ 84 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب جماعت کو اتنی بڑی اخلاقی کامیابی ملی۔ اس نے ایک عوامی بغاوت کی قیادت کرنے والی پوری قوت کو اپنے دائرے میں لے لیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے نتیجے میں اب وہ دنیا کو یہ دکھا سکتی ہے کہ شریعت پر مبنی جماعت ہونے کے باوجود اس کی اپیل معتدل متوسط طبقے تک پھیل چکی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ 12 فروری کے انتخابات کے بعد بھی بنگلہ دیش میں سیاست جاری رہے گی۔ چاہے جماعت انتخابات ہار بھی جائے لیکن این سی پی کا اس کے ساتھ ہونا جماعت کی قیادت میں اپوزیشن سیاست کو کھڑا کرنا آسان بنا دے گا۔ عملی طور پر اس نے کسی اور اپوزیشن قوت کے لیے جگہ ختم کر دی۔ سیاست میں اخلاقی اور ثقافتی پہلو بہت اہمیت رکھتے ہیں اور این سی پی کے نوجوان رہنما متوسط طبقے کی ثقافتی پس منظر سے آتے ہیں۔‘

تاہم تجزیہ کار محی الدین احمد نے ڈیلی سٹار سے گفتگو میں کہا کہ این سی پی کا جماعت کے کیمپ میں جانا انتخابات سے پہلے کا فطری سیاسی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں ہر انتخاب سے پہلے ایسے اتحاد بنتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں این سی پی کے جماعت کے ساتھ جانے کو کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھتا۔ اقتدار کی سیاست ایسے ہی آگے بڑھتی ہے۔ این سی پی حال ہی میں بنی جماعت ہے۔ اس کے کسی بھی رہنما نے 1971 کو نہیں دیکھا، اس لیے اس سے ان کا کوئی جذباتی تعلق نہیں۔ وہ ریاستی اقتدار پر مرکوز سیاست کرتے ہیں اور جہاں انھیں سازگار ماحول دکھائی دیتا ہے، وہیں چلے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے (این سی پی) بی این پی کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی لیکن نتائج سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ممکن ہے کہ انھیں جماعت کے ساتھ سودے بازی کی صورت بہتر لگی ہو، اس لیے انھوں نے یہی راستہ اختیار کیا۔‘

محی الدین احمد نے یہ بھی کہا کہ ’جس طرح 1971 میں آزادی کی اجتماعی جدوجہد کی کامیابیوں کو اپنے نام کرنے کا رجحان عوامی لیگ میں رہا، اسی طرح 2024 کی عوامی تحریک کی کامیابیوں کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کا رجحان این سی پی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US