ایک ڈاکٹر صاحب اکثر اپنے مریضوں کو نسخہ دینے سے پہلے یہ بھی لکھ دیتے تھے کہ ان صاحب یا صاحبہ سے دوا کے پیسے نہ لیے جائیں۔ ایک بار ایک مریض نے ان سے اس بات کی وجہ پوچھی تو ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کسی کا نام محمد، ابوبکر، علی یا پھر عائشہ، خدیجہ یا فاطمہ ہو اور میں ان سے دوائیوں کے پیسے لوں۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا مقدس ہستیوں سے احترام اور عقیدت کے اظہار کا اپنا انداز تھا جسے انھوں نے ساری زندگی اپنائے رکھا۔
عابد اقبال کھری ایک علمی شخصیت ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ہیں۔ ان کا یوٹیوب پر اپنا چینل بھی ہے جہاں وہ نوجوانوں کی تربیت کے لئے مختلف موضوعات زیرِ بحث لاتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں عابد اقبال نے اسلامی تاریخ کے ادوار میں استاتذہ، والدین اور بزرگوں کے احترام کی مختلف مثالیں دیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسلامی دور میں ہر درسگاہ کے اندر استاد کے لئے ایک کمرہ مخصوص ہوتا تھا جہاں بچے خود جا کر پڑھا کرتے تھے لیکن مغربی ثقافت سے متاثر ہو کر لوگوں ے اسلام کی سنہری قدریں بھلا دی ہیں اور اب بچے اپنی جماعت میں بیٹھے رہتے ہیں اور استاد ان کے پاس جاک پڑھانے پر مجبور ہیں۔
احترام سے معاشرے میں سکون تھا
عابد اقبال نے اسلامی تاریخ کے بارے میں بتایا کہ یہ جہاں جہاں گئی وہاں ادب و احترام کی ایسی ہی مثالیں قائم کرتی گئی۔ کچھ عرصہ پہلے تک والدین کے سامنے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کی جاتی تھی نہ ہی ان کے برابر بیٹھا جاتا تھا کیونکہ یہ احترام کا ہی درجہ تھا لیکن لوگوں نے مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر ان روایات کو بھلا دیا ے جس کی وجہ سے نہ اب ایسی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں اور نہ ہی آجکل کے بچوں کو وہ ذہنی سکون میسر ہے جو پہلے معاشرے کا حصہ ہوا کرتا تھا۔