زہران ممدانی نے امریکی شہر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھایا تو اکثر لوگوں نے یہ سوال کیا کہ ان کی اہلیہ نے دو قرآن کیوں اٹھا رکھے ہیں جن پر ہاتھ رکھ کر وہ اس شہر کے سب سے کم عمر میئر بھی بن گئے۔
زہران ممدانی نے امریکی شہر نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر حلف اٹھایا تو اکثر لوگوں نے یہ سوال کیا کہ ان کی اہلیہ نے دو قرآن کیوں اٹھا رکھے ہیں جن پر ہاتھ رکھ کر وہ سب سے کم عمر میئر بھی بن گئے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے پر قرآن پر حلف اٹھانے والے پہلے نیو یارک سٹی کے میئر ہیں۔
امریکہ میں نوجوان سیاستدان زہران ممدانی نہ صرف نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے تھے بلکہ وہ امریکی ووٹروں میں بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرتے اور سیکولر شناخت بناتے بھی نظر آئے۔
ان کے ترجمان کے مطابق وہ اس دوران اپنی نجی اور عوامی تقریبات میں کم از کم تین مختلف قسم کے اسلام کی مقدس کتاب استعمال کریں گے۔
زہران ممدانی قرآن کے جن نسخوں پر حلف لینے والے ہیں ان میں ان کے اپنے دادا کا قرآن اور ایک سیاہ فام مصنف اور مورخ آرتورو شومبرگ کا قرآن استعمال کیا جو نیو یارک پبلک لائبریری سے لیا گیا تھا۔
ان کی پہلی حلف برداری کی تقریب پرانے سٹی ہال سب وے سٹیشن پر منعقد ہوئی۔
دن کے وقت حلف کے دوران سٹی ہال کے باہر وہ دوبارہ اپنے دادا کی مذہبی کتاب اور کم از کم ایک اور خاندانی قرآن استعمال کریں گے۔
اس سے پہلے نیویارک کے حالیہ میئرز نے حلف لیتے وقت مختلف مذہبی کتابیں یا متن استعمال کیے ہیں جن کے ذاتی مطلب اور تاریخی اہمیت ہے۔
ممدانی جو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کے رکن ہیں، نے انتخابی مہم کے دوران اپنے مذہبی عقیدے پر بات کرنے سے گریز نہیں کیا۔
اکتوبر میں جب انھیں ایک متنازع امام کے ساتھ تصویر بنوانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے کہا کہ ’ہر مسلمان کا خواب صرف یہ ہے کہ اسے کسی دوسرے نیو یارکر کی طرح سمجھا جائے، اور پھر بھی ہمیں بہت عرصے سے کہا جاتا رہا ہے کہ اس سے کم مانگیں اور جو تھوڑا بہت ملے اس پر مطمئن رہیں۔‘

اگرچہ شومبرگ، جن کا قرآن پہلی حلف برداری تقریب میں شامل کیا جائے گا، مسلمان نہیں تھے، لیکن ان کے پاس یہ قرآن ایک بڑے مجموعے کا حصہ تھا جو سیاہ فام تاریخ اور ثقافت سے منسلک تھا۔
وہ 1874 میں پورٹو ریکو میں پیدا ہوئے اور بعد میں ہارلم منتقل ہو گئے، یہ مورخ، مصنف اور کارکن افریقی نژاد امریکی تحقیق اور علمی تحقیق کو فروغ دینے والے کارکن تھے۔
نیویارک ٹائز کے مطابق شومبرگ کا قرآن سینئر مشیر زارا رحیم اور ممدانی کی اہلیہ راما دواجی نے این وائی پی ایل کی مشرق وسطیٰ اور اسلامی مطالعات کی کیوریٹر حبا عابد کی مدد سے منتخب کیا تھا۔ '
حبا عابد نے اخبار کو بتایا کہ ’یہ ایک انتہائی علامتی انتخاب ہے کیونکہ ہمارے پاس ایک مسلم میئر قرآن کے ذریعے حلف اٹھانے والا ہے اور ساتھ ہی ایک میئر بھی ہے جو افریقی براعظم یوگنڈا میں پیدا ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’یہ واقعی یہاں ایمان، شناخت اور نیو یارک کی تاریخ کے عناصر کو یکجا کرتا ہے۔‘
یاد رہے کہ قرآن پر حلف لینے والے وہ پہلے امریکی سیاستدان نہیں ہیں۔ اس سے پہلے سابق ہاؤس رکن کیتھ ایلیسن، جو اب منیسوٹا کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرل ہیں، 2007 میں کانگریس میں حلف برداری کے دوران قرآن استعمال کرنے والے پہلے وفاقی قانون ساز تھے۔

سوشل میڈیا پر ملا جلد ردِ عمل
امریکہ میں سوشل میڈیا صارفین کا قرآن پر حلف برادری کے حوالے سے ملا جلد ردِ عمل ہے۔ کچھ لوگ اس واقعی ایک تاریخی لمحہ قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگوں کے خیال میں انھیں تو لگا تھا کے ممدانی ایک سیکولر سیاستدان کی شناخت رکھتے تھے۔
ایلسٹائن نامی صارف نے ایکس پر لکھا ’ان چیزوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا وہ بہتر ہو جائے گا؟ کیا فرق پڑتا ہے؟‘
روزین کینن نامی صارف نے لکھا ’پتا نہیں مذہب حلف برادری کا حصہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کے بجائے حقوق کی کتاب کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘
آریانا فرہاد نے ازارہِ تفنن لکھا 'ممدانی کو نیویارک سٹی کی تمام سڑکوں کے عربی نام رکھ دینے چاہیں۔'
ایمالندو دھر نامی ایک صارف نے لکھا ’مبارک ہو، نیک خواہشات، امید ہے آپ خود کو سیکولر ثابت کریں گے۔‘
کچھ ناقدین نے تو قدرے تلخ لہجہ تک اپنایا۔ ان میں سے ایک بِل ویلیئم نے لکھا ’کسے پرواہ ہے؟ خاص طور پر اگر وہ اس کتاب کے بنیادی اصولوں کی پیروی نہیں کر رہے جس پر وہ حلف اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب دکھاوا ہے۔ تھیٹر کے وہ بچے جو ہالی وڈ میں آنے جتنے باصلاحیت نہیں ہیں۔‘
زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہےزہران ممدانی کون ہیں؟
زہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی ہے۔
نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے 34 سالہ رکن ممدانی نے سال کا آغاز ایک 'غیر معروف امیدوار' کے طور پر کیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب سے اوپر پہنچ گئے۔
ان کا پورا نام زہران کوامے ممدانی ہے۔ وہ 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد محمود ممدانی ایک انڈیا یوگنڈا نژاد سیاست کے ماہر پروفیسر ہیں جبکہ ان کی والدہ میرا نائر بالی وڈ اور ہالی وڈ میں فلمساز ہیں۔ انھوں نے مون سون ویڈنگ اور دی نیم سیک جیسی اہم فلمیں بنائی ہیں۔
زہران اپنی خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیو یارک آ گئے۔
انھوں نے نیویارک کے علاقے برونکس میں پرورش پائی جو کہ ایک ملازت پیشہ آبادی کا علاقہ ہے اور ثقافتی تنوع سے بھرپور ہے۔ انھوں نے 'افریکانا سٹڈیز' میں گریجویشن کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔
سنہ 2024 میں ان کی شادی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ راما دواجی سے ہوئی۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعد زہران نے بطور 'فورکلوزر پریوینشن کونسلر' کام کیا جس کا مطلب ایک ایسا مشیر ہے جو غریب خاندانوں کو گھروں سے قرض کی وجہ سے جبری بے دخلی سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور جس کا اثر ان کی عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی سیاست پر واضح ظاہر ہے۔
سیاست کی طرف رخ کرنے سے پہلے زہران ممدانی نے فنکاری میں اپنی قسمت آزمائی۔
وہ 'مسٹر کارڈیمم' یعنی الائچی والا کے نام سے ریپ گانا گایا کرتے تھے اور 2019 میں ان کا گانا 'نانی' خاصا زیر بحث رہا، جس میں عالمی شہرت یافتہ مصنفہ مدھور جعفری نے ایک بےباک نانی کا کردار ادا کیا۔
ان کے ایک ریپ گانے میں پاکستانی گلوکار علی سیٹھی نے بھی حصہ لیا تھا اور جو کہ ان کی حالیہ انتخابی مہم کے حمایت میں نظر آئے ہیں۔
اپنے ریپ گانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ممدانی نے نیویارک میں مقیم ایک اخبار کو بتایا کہ 'فنکار اس دنیا کے کہانی نگار ہوتے ہیں، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ صرف برائے نام ہمارے ساتھ نہ ہوں بلکہ ہم ان کے شانہ بشانہ ساتھ چل رہے ہوں۔'
سنہ 2020 میں انھوں نے نیویارک کی ریاستی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا اور دس سال تک جیتنے والے رکن کو شکست دے دی۔ وہ ریاستی اسمبلی میں منتخب ہونے والے پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈا نژاد اور صرف تیسرے مسلمان بنے۔
میئر کے الیکشن کے لیے ان کی مہم میں نیویارک کے عام لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی کیونکہ انھوں نے ایسے مسائل اٹھائے ہیں جو کہ نیویارک جیسے مہنگے شہر کے عام لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔
زہران کی میئرشپ کی مہم بنیادی طور پر ایک سوشلسٹ نظریہ پیش کرتی تھی جس میں انھوں نے شہر میں رہائش، نقل و حمل اور کھانے کی سہولیات کو زیادہ منصفانہ بنانے کا وعدہ کیا۔ تاہم ان کے ناقدین، مثلا نیویارک ٹائمز اخبار کے ادارتی بورڈ، کا خیال ہے کہ یہ منصوبے مالی طور پر ممکن نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے مسلم عقیدے کو بھی اپنی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ بنایا اور جہاں باقاعدگی سے مساجد کا دورہ کیا وہیں شہر کے اخراجات کے بحران کے بارے میں اردو میں ایک ویڈیو بھی جاری کی۔
موسم بہار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، 'ہم جانتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے عوام میں کھڑے ہونا اس تحفظ کی قربانی دینا بھی ہے جو ہمیں کبھی کبھی سامنے نہ آ کر مل سکتا ہے۔'