افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد دنیا بھر میں افغانستان سے کوئی اچھی اور مثبت خبر سامنے نہیں آرہی ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی میڈیا ہی خبر سامنے لا رہا ہے، وہ خود افغان طالبان کا حامی نہیں ہے۔
وہ خبر کو اس طرح پیش کر رہا ہے جیسے افغانستان میں کوئی بہت ہی بُری صورتحال ہے۔ لیکن صورتحال اس سے بر عکس ہے۔ عوام گھوم بھی رہی ہے، سیر و تفریح بھی ہو رہی ہے اور کام بھی جاری ہے۔
لیکن ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو افغانستان کے بارے میں ایک ایسی معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ نے بھی نہیں سنی ہو۔
افغانستان میں آقائے دو جہاں محمد مصطفٰی ﷺ کے جبہ مبارک سے متعلق آپ کو معلومات فراہم کریں گے۔
افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی جس کے نام سے ہندوستان آج بھی ڈرتا ہے، یہ وہی جاںباز بہادر حکمران تھا جنہیں جدید افغانستان کا پہلا بادشاہ یا حکمران کہا جاتا ہے۔ 1747 سے 1770 تک حکمرانی کرنے والے احمد شاہ ابدالی نے مغلوں، مراٹھاز پر حاوی رہے جبکہ درانی اسٹیٹ کو پرشیا اور ترکستان تک پھیلا دیا تھا۔
جس جگہ احمد شاہ ابدالی کا مقبرہ واقع ہے بالکل اسی مقبرے کے سامنے ایک بلڈںگ موجود ہے جس میں آقائے دو جہاں ﷺ کا جبہ مبارک موجود ہے۔ واضح رہے کہ احمد شاہ ابدالی کا مقبرہ کندھار میں واقع ہے۔
پاکستانی صحافی ارشد شریف نے اس مقام کا دورہ کیا جہاں احمد شاہ ابدالی کا مقبرہ موجود ہے، انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے بات چیت کی جس میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ جبہ مبارک تک کسی عام بندے کی رسائی ممکن نہیں ہے جبکہ یہ جبہ مبارک احمد شاہ ابدالی ازبکستان سے یہاں لے کر آئے تھے۔