شاہی محل کی خواتین حسن و خوبصورتی میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں لیکن انھیں کچھ ایسی روایات کا پابند بھی رہنا پڑتا ہے جو شاید ایک عام لڑکی قبول نہ کرے۔ یہ روایات جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے
لال نیل پالش نہیں لگا سکتیں
آپ نے غور کیا ہوگا کہ ملکہ سے لے کر میگھن مارکلے تک کوئی بھی شہزادی سرخ نیل پالش نہیں لگاتی نہ ہی کوئی شوخ رنگ لگاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ محل کی خواتین کو سوبر اور نفیس رنگوں کے علاوہ نیل پالش کے رنگ لینے کی اجازت نہیں ہے
شاہی تقریبات میں بال نہیں کھول سکتیں
کتنی عجیب بات ہے کہ خواتین تقریب میں بال نہیں کھول سکتیں لیکن یہ سچ ہے کہ شاہی خاندان کی تقریبات میں خواتین کو سر پر ہیٹ پہننا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تقریبات میں بھی بالوں کو ایسا اسٹایل دینا لازمی ہے جس سے ان کی زندگی مصروف ظاہر ہو
ہلکا میک اپ
دانتوں پر لپ اسٹک لگ جانا یا مسکارا پھیل جانا کافی معمولی بات ہے لیکن شاہی خواتین اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہیں کرسکتیں کیوں کہ عوام کے سامنے میک اپ ٹھیک کرنا شاہی روایات میں معیوب سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے دھیما میک اپ اور ہلکے رنگ کی لپ اسٹک کا استعمال کیا جاتا ہے تا کہ اگر دانت پر لگ بھی جائے تو نمایاں نہ ہو
چھوٹے پرس
چھوٹے پرس یا کلچز کا استعمال فیشن میں تو ہے ہی لیکن ان کا استعمال شاہی خاندان کی خواتین کے لئے ضروری ہے وہ بڑے پرسز یا اسٹریپ بیگز کا استعمال نہیں کرسکتیں کیونکہ اس سے ان لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو ان سے ہاتھ ملانا چاہتے ہیں۔ یہ کلچز دیکھنے میں کافی اسمارٹ اور ٹرینڈی لگتے ہیں۔
تھیم کے حساب سے کپڑے
اگر شہزادی کیٹ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ہوں گی تو ان کا سارا خاندان ایک ہی رنگ کے مختلف شیڈز پہنے گا تاکہ دیکھنے والوں پر خوشگوار اور اور ایک متحد خاندان کا تاثر ملے۔