دل جوان ہو تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے اور جب آپ کے اپنے آپ کا ساتھ دیں تو پھر ہمت مل ہی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے کئی لوگ دیکھنے کو ملیں گے جو کہ اپنے عمر اور منفرد انداز سے سب کو حیران کر رہے ہیں۔
ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ ٹک ٹاک کے بعد انٹساگرام پر بھی لوگ مشہور ہو رہے ہیں، اور صرف مشہور ہی نہیں بلکہ عمر کی حد کو توڑ رہے ہیں۔
پرادنیا پرکاش قدم:
بھارتی شہر مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی پرادنیا ایک ماں ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ وہ ایک ہاؤس وائف ہیں جو کہ گھریلوں چیزوں سے آگے کچھ نہیں جانتی تھیں۔ مگر بیٹے کو موبائل کے سامنے ویڈیو بناتے دیکھ ماں بھی خوش ہوتی تھی۔
پرادنیا کہتی ہیں کہ میں کچن میں کام کرتے کرتے گانا بھی گاتی تھی اور جھوم بھی لیتی تھی۔ ایک مرتبہ حسب معمول میں کچن میں تھی اور گانے پر اپنی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی، تب ہی میرے بیٹے نے ویڈیو بنا لی تھی۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر کافی پسند کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد ہی پرادنیا نے زید ویڈیوز بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
پرادنیا کہتی ہیں کہ جب بھی میں بازار جاتی ہوں تو مچھلی والے کبھی کبھی مجھے مفت میں مچھلی دیتے ہیں۔
پرادنیا کے شوہر کا 2020 میں کورون وائرس کے سبب انتقال ہو گیا تھا، بھارتی معاشرے میں بیوہ کو خوش دیکھنا یا خوشی منانا غلط سمجھاتا ہے۔ پرادنیا کہتی ہیں کہ میں اپنے شوہر سے پیار کرتی تھی، وہ بہت اچھے انسان تھے۔ انسٹاگرام پر پرادنیا کے فالوورز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ویسنتی آکھانی:
گجرات سے تعلق رکھنے والی ویسنتی انسٹاگرام پر مزاحیہ چٹکلوں پر مبنی ویڈیوز بناتی ہیں۔ ویسنتی کی ویڈیوز اس لیے بھی اثر انداز اور تفریح سے بھرپور ہوتی ہیں کیونکہ وہ عام آدمی اور عام باتوں پر مشتمل موضوعات پر مزاحیہ چٹکلیں بناتی ہیں۔
ویسنتی کہتی ہیں کہ دلی کی گلیوں میں میں نے 30 سے 32 سال ریڑھی چلائی ہے۔ اس تجربے نے مجھے بے حد اعتماد دیا ہے۔ انسٹاگرام پر ڈیڑھ لاکھ فالوورز ہیں جو کہ میری فیملی کا حصہ بن چکے ہیں۔
ویسنتی کہتی ہیں کہ میں نے بہت برا وقت دیکھا ہے مگر اب سب اچھا ہے، بچوں کو پڑھا رہی ہوں، سب خوش ہیں۔ ویسنتی کے پوسٹس پر منفی کمنٹس بھی آتے ہیں مگر وہ خوش اسلوبی سے انہیں برداشت کرتی ہیں۔
ریتو:
بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ریتو بھی انہی خواتین میں شامل ہیں جو کہ انسٹاگرام پر منفرد اور تفریح بھری ویڈیوز اپلوڈ کرتی ہیں۔
ریتو کی خواہش تھی کہ وہ بھی مشہور ہوں، مگر سماج میں انہیں یہ سب کرنے پر منفی طور پر دیکھا جا رہا تھا، وہ کہتی ہیں کہ مجھے یہ سب کرنے پر کہا جاتا تھا کہ یہ تو غلط عورتیں کرتی ہیں۔
ریتو چاہتی ہیں کہ وہ ایک کتاب لکھے جس میں وہ اپنی آپ بیتی دوسروں سے شئیر کریں جس میں وہ بتائیں کہ کس طرح شرابی کی بیٹی آج اپنی محنت اور ہمت سے مشہور ہو چکی ہے۔