معروف کامیڈین و اداکار عمر شریف کا امریکہ میں علاج کرنے والی ٹیم کے رکن، ڈاکٹر طارق شہاب نے عمر شریف کی بیماریوں سے متعلق جھوٹی افواہوں کی تردید کردی۔
پاکستانی اداکارہ ریما خان کے شوہر ڈاکٹر طارق شہاب جو کہ عمر شریف کا امریکہ میں علاج کرنے والی ٹیم کے رکن بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمر شریف، عارضہ قلب، گردوں کے مسائل اور ذیابطیس کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ عمر شریف کے متعلق دیگر پھیلائی جانے والی بیماریوں میں کوئی صداقت نہیں۔
ڈاکٹر طارق شہاب نے کہا کہ کچھ دن قبل مجھے عمر شریف کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ عمر شریف کے دل سے خون بہہ رہا ہے اور ان کے پاس صرف 14 دن ہی ہیں۔
تاہم ڈاکٹر طارق شہاب کے مطابق انہوں نے عمر شریف کی اہلیہ کو چند ٹیسٹ بھجوانے کا کہا تھا، جس کو دیکھ کر انہوں نے عمر شریف کو امریکہ میں علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کے عمر شریف کے دل سے خون نہیں بہہ رہا ہے، لیکن ان کے دل کے ایک وال نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے دل میں جمع ہونے والا خون پھیپھڑوں کی جانب جارہا ہے۔ اور اس وجہ سے عمر شریف کو سانس لینے میں مشکل درپیش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر شریف کے علاج کیلئے اگر مزید رقم کی ضرورت پڑی تو وہ آن لائن کے ذریعے فنڈ حاصل کرنے کی اپیل کرسکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق شہاب نے بتایا کہ عمر شریف کے علاج میں 70 سے 75 ہزار ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ جو کہ پاکستانی 10 کروڑ سے زائد کی رقم بنتی ہے۔
ڈاکٹر طارق شہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مدد سے امریکی سفارت خانے سے عمر شریف کو امریکہ کا ویزا مل چکا ہے۔
تاہم انہوں نے عمر شریف کی بیماری کے متعلق افواہوں کے بارے میں کہا کہ، کہا جارہا ہے کہ عمر شریف کینسر، ڈیمیشیا سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف کو ان میں سے کوئی بیماری لاحق نہیں ہیں۔ انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمر شریف کو عارضہ قلب، ذیابطیس اور ان کا ایک گردہ کمزور ہے۔ جبکہ ان بیماریوں کی وجہ سے ان کے علاج میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ عمر شریف کے بیٹے جواد عمر کا کہنا ہے کہ والد کی طبیعت اب بہتر ہے، ائیر ایمبولینس آنے میں تین سے چار دن لگیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم سے دعاؤں کی اپیل ہے، تاہم امریکہ میں ڈاکٹروں کی ٹیم مکمل طور پر تیار ہے۔ جبکہ انہوں نے بتایا کہ ائیر ایمبولینس کیلئے سندھ حکومت نے وفاق کو خط لکھ دیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ائیر ایمبولینس کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے۔