کیا کتے اور انسانی جسم کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ جانیے کتے سے متعلق چند معلومات، جو یقینا آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے

image

چرند پرند اور جانور ایک ایسی مخلوق ہیں جو کہ انسانوں کی طرح سمجھ نہیں رکھتی ہیں، نہ ہی اپنی تکلیف کو بیان کر سکتی ہیں اور اپنے احساسات اور خوشیوں کو دوسرے سے شئیر کر سکتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں ان تمام مخلوق سے صلح رحمی کے ساتھ پیش آںے کا حکم ہے۔

ہمای ویب کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی مخلوق کتے کے بارے میں کچھ ایسی معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ نے پہلے نہیں سنی ہو۔

کتے ایک ایسی جاندار مخلوق ہے جسے وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کتے کے حوالے سے عام تاثر یہ بھی ہے کہ جاندار جانور اپنے مالک کی ڈانٹ بھی سنتا ہے، شاباشی بھی لیتا ہے مگر کبھی مالک کو چھوڑتا نہیں ہے۔

لیکن اسلام میں کتے کو ناپاک جانور کے طور پر دیکھا گیا ہے، اگرچہ اسلام نے جانوروں کے حقوق رکھے ہیں مگر کچھ جانور ایسے بھی ہیں جو کہ انسان کو بے شمار بیماریوں مبتلا کر سکتے ہیں۔

کتے کی پیدائش سے متعلق دو حقائیت موجود ہیں، پہلی حقائیت کے مطابق امام عبدالرحمٰن السفوری نے اپنی کتاب نزھتہ المجالس میں نقل کیا ہے کہ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور فرشتوں کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت شیطان نے ناصرف سجدہ کرنے سے انکار کیا بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے پر بھی تھوک دیا تھا۔

ان کی کتاب کے مطابق وہ تھوک آدم علیہ السلام کے پیٹ پر جا کر گرا تھا، اللہ کے حکم سے اس مٹی والی جگہ کو ہٹا دیا گیا تھا، جو کہ تھوکی ہوئی مٹی سے کتے کی پیدائش کا باعث بنا۔

واضح رہے اس واقع کا ذکر بنا کسی سند کے ذکر کیا ہے اور اس واقع کا ذکر کسی حدیث میں موجود نہیں اسی لیے اسے معتبر نہیں کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ دوسری حقائیت انور المبین نامی کتاب میں موجود ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم نے آقائے دو جہاں ﷺ سے دریافت کیا کہ کتوں کو کیوں پیدا کیا گیا اور انسان کو اسے اپنے گھر میں رکھنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

آپﷺ نے فرمایا کہ جب حضرت آدم اور بی بی حوا کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا تو وہ خوف سے کانپ رہے تھے، اس وقت شیطان دیگر درندوں کے پاس گیا تھا اور کہا تھا کہ تم لوگ ان پرندوں جیسے معصوم انسانوں کو ختم کر دو۔ اسی دوران درندوں کو پکراتے وقت شیطان کے منہ سے کف جاری ہو گئی تھی، اس تھوک سے کتوں کو تخلیق کیا گیا تھا۔ جبکہ اللہ کے حکم سے یہی کتے انسانوں اور درندوں کے بیچ آ گئے تھے، اور انہوں نے انسانوں کو بچا لیا تھا۔

جبکہ بخاری شریف کی حدیث نمبر 3227 ، مسلم شریف سنن ابو داؤد مستند احمد سمیت دیگر کتب میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ بیدار ہوئے تو غمگین اور خاموش تھے، میں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رات آنے کا وعدہ کیا تھا، پر نہیں آئے۔ پورا دن اسی سوچ میں گزرا، پھر یاد آیا کہ ہمارے بچوھنے کے نیچے کتے کا ایک پلہ ہے۔

آپ ﷺ نے اسے نکالنے کو کہا اور اپنے دست مبارک سے اس جگہ کو پانی سے صاف کر دیا۔

اگلے روز جب جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر موجود ہو۔ دراصل کتا ایک ایسا جانور ہے جو کہ نجس چیزیں کھاتا ہے اسے وہ تمام چیزیں بے حد پسند ہیں جن سے بُو آ رہی ہو اور ناپاک ہو۔ چونکہ کتا حرام گوشت بھی کھاتا ہے، جبکہ اپنی قے کو بھی دوبارہ چاٹ لیتا ہے، تو انہی وجہ سے وہ ناپاک بھی ہوتا ہے۔

جبکہ ہمارے معاشرے میں ایک مذہبی پہلو جس پر بہت زور دیا جاتا ہے وہ یہ کہ کتے کے نجس برتن کو اچھی طرح دھوئیں۔ کتے کے حوالے سے اسلام میں پابندی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ انسان کے فائدے ہی کے لیے ہے۔

اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ جدید سائنس کے مطابق کتے کے لعاب میں انتہائی خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ کتے کے اندر کچھ ایسی صفات بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے وہ ہر کسی کو اچھا لگتا ہے۔

قناعت پسندی:

قناعت پسندی یعنی جو مل جائے اسی میں خوش رہنا۔ کتا ایک ایسا جانور ہے، جسے جو چیز مل جائے اس میں خوش رہ سکتا ہے۔

بھوک برداشت کرتا ہے:

کتا ایک ایسا جانور ہے جو کہ بھوکا بھی رہ سکتا ہے، اور بھوک کو برداشت کرتا ہے، اگرچہ کتے کی آںکھوں میں ایک نمی ہوتی ہے جو کہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بھوکا ہے مگر پھر بھی کتا برداشت کرتا ہے۔

مالک کا وفادار:

کتے کا مالک اگر ظالم بھی ہے تو پھر بھی وہ اپنے مالک کو نہیں بھولتا ہے، ہر لمحے مالک کو تکتا رہتا ہے۔ مالک اگر اسے مارے بھی تو مار کے بعد بھی مالک کے پاس آجاتا ہے اور ماضی بھول جاتا ہے۔

برداشت:

اگر کتے کا مالک کتے کے سامنے بیٹھا کھانا کھا رہا ہے تو کتا مالک کو تکتا رہتا ہے اور اس کے اشارے کے بنا کوئی حرکت نہیں کرتا۔ اگر مالک خود کھانا دے تو وہ لیتا ہے ورنہ مالک کو آخری وقت تک تکتا رہتا ہے۔

مالک کی پہچان:

کتے کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مالک کے قدموں میں جا کر بیٹھ جاتا ہے اور اسی جگہ پر بیٹھنے پر خوش رہتا ہے۔

حفاظت:

کتا ایک ایسا جانور ہے جو کہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے مالک کی حفاظت کرتا ہے، مختلف طریقوں سے چاہے بھونک کر یا دشمن کو حملہ کر کے کتا اپنے مالک کو بچاتا ہے۔

یہ تمام خصوصیات ایک کتے موجود ہوتی ہیں۔ اسلام نے کتا کو حفظات اور شکار کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی مگر اسے گھر میں رکھنے سے متعلق واضح کر دیا ہے۔ اس پابندی میں بھی انسانی بھلائی کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US