آپ نے دنیا کے کئی امیر افراد کی نکساری کے قصے سنے ہوں گے لیکن آج اس آرٹیکل میں ہم آپ کو پاکستان کے سب سے بڑے سافٹ وئیر ہاؤس نیٹ سول کے مالک سلیم غوری کے بارے میں بتائیں گے جو اپنی سادہ مزاجی کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہیں۔
سو پش اپس
سلیم غوری اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور سو پش اپس بھی لگا لیتے ہیں۔ فٹنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ صحت کا خیال رکھنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ وہ روز صبح ورزش ضرور کرتے ہیں جس کی وجہ جسمانی صحت سے زیادہ ذہنی سکون ہوتا ہے۔ آپ کے دماغ پر جتنا بھی بوجھ ہوگا آپ ورزش کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
ناکامیوں میں پی ایچ ڈی کرکے بیٹھا ہوں
سلیم غوری کہتے ہیں کہ میں ناکامیوں میں پی ایچ ڈی کرکے بیٹھا ہوں لیکن میں انھیں ناکامی نہیں کہتا بلکہ سیکھنے کا حصہ کہتا ہوں۔ زندگی میں کئی بار ایسا ہوا کہ ہاتھ میں کچھ نہیں رہا لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے کے بعد کاروبار بالکل ٹھپ ہوگیا۔ پورا اسٹاف پریشان تھا لیکن میں مسکراتا رہا کیونکہ اگر میں بھی پریشان رہتا تو اسٹاف کوہمت کون دیتا اسی لئے میں کہتا ہوں چاہے کچھ بھی ہو ہمت نہیں ہارنی چاہئیے۔
گھر والوں نے بہت ساتھ دیا
سلیم غوری نے بتایا کہ زندگی کی تمام مشکلوں میں ان کے گھر والوں ار اہلیہ نے بہت ساتھ دیا۔ جب ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ بس یا رکشے میں ہی سفر کرتے تھے اس دوران کبھی کسی نے گاڑی نہ ہونے کی شکایت نہیں کی۔ جو ملا کھا لیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پیسہ ہو تو سب اپنے ہوتے ہیں لیکن اصل رشتوں کی پہچان تو تبھی ہوتی ہے جب آپ کے پاس کچھ نہ ہو۔ اور اس معاملے میں وہ خوش نصیب ہیں۔
ایک شخص جس نے زندگی بدل دی
کاروبار کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک جرمن شخص تھا جو میری زندگی میں ایک فرشتے کی طرح آیا اور ساری زندگی بدل دی۔ یہ وہ وقت تھا کہ میرے ساتھ صرف دو اور لوگ کام کرتے تے اور وہ جرمن شخص ایک بڑے ادارے کا حصہ تھا۔ اس نے مجھے اس وقت کام دینا شروع کیا جب کوئی اور مجھ سے کام نہیں کروانا چاہتا تھا اور اس کے الفاظ تھے کہ “میرا کام غلط ہوگیا تو کوئی بات نہیں میں اگلی بار کسی اور سے کروالوں گا لیکن تمھیں آگے بڑھانے کے لئے اس وقت تمھارا ساتھ دینا ضروری ہے“ اور پھر میں نے اس کے بھروسے کو نہیں توڑا۔
تین بیٹیاں اور ایک بیٹا
سلیم غوری کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ایک بیٹی اور بیٹا ابھی پڑھ رہے ہیں۔ بچوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جب کسی سے ملوں تو وہ میرے بچوں کی تعریف کرے اس کے لئے میں نے اپنے بچوں کو اچھا انسان بننے کی تلقین کی اور خود بھی یہی چاہتا ہوں کہ اچھا انسان ہی رہوں۔ کیونکہ پیسہ آنی جانی چیز ہے لیکن عزت اور اگر کوئی آپ کو دیکھ کر مسکرا دے اس سے بڑی چیز اور کوئی نہیں۔