حالیہ دنوں برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان سے برطانیہ سفر کرنے والے افراد پر پی سی آر ٹیسٹ اور 10 دن قرنطینہ کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ پاکستان میں ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کا عمل فول پروف نہیں ہے۔
جبکہ گزشتہ دنوں ایک خبر سامنے آئی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کا جعلی ویکسینیشن کا ڈیٹا منظر عام پر آیا تھا۔ جس کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ تاہم تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کردی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کیے جانے والی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے 4 ملازمین نے نواز شریف کا ڈیٹا درج کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق اسپتال میں آن لائن ویکسی نیشن ڈیٹا انٹری کو جانچنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسپتال میں نگرانی کا فقدان تھا جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا، ویکسینیشن سینٹر میں کوئی سینئر اسٹاف تعینات نہیں کیا گیا تھا، ڈیٹا کا اندراج اسپتال انتظامیہ نے وارڈ بوائے اور چوکیدار کو دیا تھا۔
تاہم اسپتال کے ایم ایس سمیت 9 ملازموں کو معطل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن گجر پورہ میں ڈاکٹر احمد ندیم نامی شخص نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دفعہ 420 کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔