علمائے کرام ایک ایسی ہستی ہے جو کہ علم کا خزانہ رکھتے ہیں۔ اپنے علم کی بدولت علمائے کرام سماج کو ایک بہترین راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے ان مشہور عالم دین کے بارے میں، جو انتقال کر گئے۔
مفتی نعیم:
مفتی محمد نعیم کا شمار پاکستان کے صف اول کے علماء میں ہوتا تھا، مفتی نعیم اس لیے بھی پاکستان بھر میں مشہور تھے، کیونکہ وہ بھائی چارہ اور فرقہ واریت کے خلاف تھے۔ 1958 میں پیدا ہونے والے مفتی نعیم کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔
62 سالہ مفتی نعیم عارضہ قلب میں مبتلا تھے، منفرد بات یہ تھی کہ جامعہ علوم السلامیہ بنوری ٹاؤن گئے اور پھر اسی جامعہ میں بطور استاد ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ مفتی نعیم کی اچانک رحلت نے دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کو افسردہ کر دیا تھا۔
علامہ طالب جوہری:
27 اگست 1939 کو پیدا ہونے والے علامہ طالب جوہری بھی پاکستان کے ان پڑھے لکھے اور مزہبی گھرانوں کے چشم و چراغ تھے، جنہوں نے ملک میں فروہ واریت کے خلاف اور بھائی چارگی کے لیے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اعلامہ طالب جوہری ہمیشہ ہی مثبت سوچ رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جس طرح مولانا طارق جمیل پاکستان بھر میں مشہور ہیں اسی طرح علامہ طالب جوہری بھی سب کی آںکھ کا تارا تھے۔ حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے علامہ کراچی کے اسپتال میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ علامہ طالب جوہری اردو ادب سے بخوبی واقف تھے۔
منور حسن:
جماعت اسلامی کے رہنما اور دینی خدمات سر انجام دینے والے سید منور حسن کا شمار بھی پاکستان کے بہترین اور پڑھے لکھے گھرانوں میں ہوتا ہے۔ 5 اگست 1941 کو پیدا ہونے والے سید منور حسن اگرچہ جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے تھے، لیکن ان کی بیٹھک مشہور عالم دین کے ساتھ رہی تھی، جس کی وجہ سے ان کی تربیت بھی اسی طرح ہوئی تھی۔
منور حسن بھی کافی دنوں سے بیمار تھے، دل میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔
مولانا محمد عادل:
مولانا محمد عادل اگرچہ میڈیا ی نظروں میں نہیں تھے، لیکن ان کا شمار ان عالم دین میں ہوتا ہے جو کہ دنیا بھر میں اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ 10 اکتوبر 1957 میں پیدا ہونے والے مولانا عادل جامعہ فاروقیہ کے مہتمم تھے۔
مولانا عادل کو اردو، انگریزی، عربی سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا، معلم بھی تھے اور ادیب بھی۔ جبکہ علوم القرآن، علوم الحدیث، تعرف اسلام،اسلامی دنیا، اسلامی معاشیات اور اخلاقیات سمیت کئی دیگر موضوعات میں دلچسپی رکھتے تھے۔
مولانا عادل کو کراچی میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہو گئے تھے۔
علامہ خادم حسین رضوی:
22 مئی 1966 کو پیدا ہونے والے علامہ خادم حسین رضوی کو پاکستان بھر میں مقبولیت حاصل تھی، علامہ نے ختم نبوت اور توہین رسالت کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ بنایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی اس کاوش کو پاکستان بھر میں سراہا گیا تھا۔
علامہ خادم حسین رضوی نے ہم آہنگی اور بھائی چارگی کا درس دیا تھا، جبکہ وہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ بھی تھے۔ خادم حسین رضوی اچانک رحلت نے چاہنے والوں کو افسردہ کر دیا تھا۔ ان کے جنازے نے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔
مفتی زر ولی خان:
1953 میں پیدا ہونے والے مفتی زر ولی خان جامعہ بنوریہ سے تعلیم حاصل کی جبکہ گلشن اقبال میں مدرسہ احسن علوم کی بنیاد رکھی، جو اب جامعہ کا درجہ رکھتی ہے۔
مفتی زر ولی خان پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے، جبکہ وہ کئی دنوں سے آکسیجن کی مدد سے سانس لے رہے تھے۔ مفتی زر ولی خان 2020 میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔