انہوں نے کنیز کی وجہ سے قاتلوں کے کان کے پردے پھاڑ دیے اور زبان کاٹ دی کیونکہ ۔۔ جانیے سلطنت عثمانیہ کی بربادی کا سبب بنے والی اس کنیز کے بارے میں حیرت انگیز معلومات، جو ملکہ بن گئیں

image

تاریخ ایک ایسی کتاب ہے جو کہ انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے، حتیٰ کہ آج کے دور میں بھی تاریخ ہمیں بہت سی چیزیں سکھا رہی ہے۔

ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو عثمانیہ سلطنت کی ایک ایسی کنیز کے بارے میں بتائیں گے جس نے عثامنیہ سلطنت کے بادشاہ اور شہزادوں کے درمیان نفرت پیدا کر دی تھی اور نتیجہ یہ نکلا کہ بادشاہ نے شہزادے کو قتل کر وا دیا۔

اگرچہ آج ارتغل غازی اور دیگر خلافت عثمانیہ کے واقعات پر مبنی ڈرامیں مشہور ہو رہے ہیں، لیکن ان ڈراموں کے پیچھے کچھ ایسی سچی اور کڑوی داستان چھپی ہو جو ہو سکتا ہے ڈراموں میں اس طرح نہیں بتائی جاتی ہو۔

حریم سلطان بھی ایک ایسی ہی کنیز تھی جو سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں اور اسے نقصان پہچانے کے حوالے سے کافی اہم کردار سمجھی جاتی ہیں۔ عثمانیہ سلطنت کے سلطان سلیمان اعظم القانونی اپنے وقت کے کافی مشہور سلطان گزرے تھے لیکن حیات زندگی میں ہی وہ مشکل وقت کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ حریم نامی کنیز کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنے خاندان کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔

ویسے تو کنیز حریم کا تعلق یوکرین کے علاقے روتھینیا سے تھا۔ اس وقت یوکرین بھی پولینڈ کا حصہ تھا۔ حریم اگرچہ عثمانیہ سلطنت کا حصہ بن چکی تھیں، مگر ان کی خاطر سلطان نے اس روایت کو بھی توڑ دیا تھا کہ سلطان کنیز سے شادی نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن حیرت زدہ بات یہ بھی ہے کہ مؤرخین کے مطابق حریم مسیحی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

مغربی یوکرائن پر روسی حملے کے نتیجے میں وہاں موجود لوگوں کو غلام بنا لیا گیا تھا، حریم بھی غلامی کی بیڑیوں میں بند گئی تھی، یہ تقریبا 1517 کے آس پاس کی بات ہے، اسی دور میں حریم بکتی بکاتی استنبول تک پہنچ گئ تھی۔ جبکہ سلطان سلیمان صوبہ مانیسہ کے سربراہ تھے اور 1515 میں ایک کنیز ماہ درا سے ان کے پہلے بیٹے مصطفٰی کی پیدائش ہوئی تھی۔ جبکہ ماہ درا کے والد کوہ قاف کے سردار تھے۔ سلطان نے ماہ درا سے شادی کی تھی۔

1520 میں والد کی وفات کے بعد سلطان سلیمان بادشاہ بن گئے، اور کنیزیں سلطان کی ملکیت میں آگئیں۔ بادشاہ کا محل الگ تھا جبکہ کنیزوں اور دیگر افراد کے لیے الگ محل وجود تھا۔ جبکہ اسی پرانے محل میں سلطان کی والدہ عائشہ حفصہ سلطان رہتی تھیں۔ عائشہ سلطان کو عثمانیہ سلطنت کی پہلی والدہ سلطانہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جبکہ بادشاہت میں وہ پہلی طاقتور خاتون تھیں۔ دوسرے نمبر پر وہ کنیز تھی، جس سے سلطان کا بیٹا پیدا ہوتا تھا۔ اسی لیے ماہ درا دوسری سب سے طاقتور ترین خاتون تھیں۔

سب کچھ اچھا چل رہا تھا، لیکن کنیز حریم کی آمد نے محل میں ایک عجیب غیر محفوظ صورتحال پیدا کر دی تھی۔ چونکہ سلطان کو حریم کا پسند کرنے لگے تھے، ان کا انداز گفتگو، مزاح بھرا انداز اور عقل دانائی سے بھرپور گفگتو سلطان کو ان کا گرویدہ بنا رہی تھی۔ سلطان کی کنیز کی طرف قربت دیکھ کر ماہ درا کو جلن ہونے لگی، جبکہ کنیز کو حریم یا حرم کا لقب بھی اسی وجہ سے دیا تھا کہ حریم خوش مزاج تھیں۔

اپنے دلکش انداز، دلفریب باتیں، عقل اور دانائی سے حریم نے سلطان سلیمان کو اپنی باتوں میں پھنسانا شروع کر دیا تھا۔ اور 1521 میں حریم اور سلطان سلیمان کی پہلی اولاد بھی دنیا میں آگئی جس سے حریم سلطنت کی تیسری طاقتور خاتون بن گئیں۔ یہی وہ ووقت تھا جب ماہ درا اور حریم میں جنگ شروع ہو چکی تھی۔ حریم اور سلطان کے اس بیٹے کا نام محمد رکھا گیا تھا۔ جبکہ 1525 تک مزید چار لڑکوں کی پیدائش ہوئی۔

مصطفٰی والد کی جگہ اگلے حکمران بننے کے مضبوط امیدوار تھے، عثمانیہ سلطنت میں والد کی موت کے بعد بڑا بیٹا ہی عہدے پر آتا تھا، جبکہ بڑا بیٹا دیگر بھائیوں قتل کر وا دیتا تھا۔ ماہ درا اور حریم کی لڑائی اس قدر شدید ہو گئی تھی کہ والدہ سلطانہ نے دونوں پر کڑٰ نگرانی شروع کر دی تھی اور ایک حد تک رہنے کی ہدایت کی تھی۔ اس طرح مانیسہ کا سربراہ بڑے بیٹے مصطفٰی ہی کو بنایا گیا، لیکن 1534 میں والدہ سلطانہ کی وفات پر صورتحال کچھ یون تبدیل ہوئی کہ حریم نے سلطان سلیمان کو شہزادے مصطفیٰ کے خلاف کرنا شروع کر دیا تھا۔ سلطان اس حد حریم کے زلفوں کے آسیر ہو گئے کہ انہوں نے حریم سے شادی کر لی، اور روایت کے خلاف جاتے ہوئے کنیز سے نکاح کر لیا۔

اس طرح حریم سلطنت کی سب سے طاقتور عورت بن گئیں۔ حریم کی منزل میں ایک رکاوٹ ابراہیم پاشا تھا، جو کہ وزیر اعظم بھی تھا اور سلطان کا خاص دوست بھی جس سے سلطان نے اپنی بہن کی شادی کرائی تھی۔ حریم نے سلطان کو ابراہیم پاشا کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور یہ بیانیہ قائم کیا کہ ابراہیم سلطان کی جگہ لینا چاہتا ہے۔ اس طرح سلطان نے ابراہیم کو حریم کے کہنے پر قتل کروا دیا۔ جبکہ ابراہیم کے قتل کے گواہان کے کان پھاڑ دیے گئے اور زبان کاٹ دی گئی تاکہ وہ نا کچھ سُن سکیں اور نہ کچھ بول سکیں۔ لیکن ترک مؤرخین کا خیال ہے کہ ابراہیم پاشا اپنے عہدے پر رہ کر قانون سے بالاتر سمجھ رہا تھا۔

حریم نے ابراہیم پاشا کو ہٹانے کے بعد سلطان سے قربت حاصل کرنے کا سوچا، کیونکہ سلطان اپنے نئے محل میں رہتے تھے، جبکہ حریم کا پرانا محل تھا۔ اس صورتحال میں حریم نے محل میں آگ لگوائی تاکہ سلطان کے قریب ہو سکے، اور پلان کے عین مطابق وہ سلطان کے قریب ہو گئی۔

اب حریم ملکی معاملات اور دیگر پیچیدہ مسائل پر سلطان کو مشورے دینے لگی اور سلطان نے ان مشوروں کو بغور جائزہ لینا شروع کر دیا۔ سلطان حریم کی ہر بات کو پھتر پرلکیر سمجھا تھا، حالانکہ حریم کا مقصد اپنے بیٹوں کو بادشاہ کے عہدے پر لانا تھا۔ مؤرخین کے مطابق حریم استنبول میں جادوگرنی کے نام سے مشہور ہو گئی تھیں۔ مغربی مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ شہر کے قصابوں سے ہڈیاں خریدتی تھیں۔

حریم کے بیٹے جوانی کے دور میں داخل ہو چکے تھے، یہی وہ وقت تھا جب حریم مصطفٰی کو ایک اپنے راستے میں حائل کانٹا سمجھ رہی تھیں، جسے وہ ہٹانا چاہتی تھیں۔ پہلے تو حریم نے کسی نا کسی طرح اپنے داماد رستم پاشا کو وزیر اعظم بنوایا پھر۔ رستم پاشا اور حریم سلطان نے ایک پلان بنایا جس کے تحت رستم پاشا نے یہ افواہ پھیلا دی کہ مصطفٰی اپے باپ کا عہدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اسے بادشاہ بننے کا لالچ ہے، جبکہ مصطفٰی اس کے برعکس تھا جو کہ والد کا فرماںبردار اور ایک قابل شہزادہ تھا۔

چونکہ مصطفیٰ کو منیسہ کا سربراہ بنا کر بھیجا گیا تھا اور پھر اس کے بعد سے مصطفٰی کو کوئی کام یا ذمہ داری نہیں سونپی گئی، حتٰی کہ جنگوں میں مصطفٰی کو شامل نہیں کیا جاتا تھا، جس شہزادہ والد سے ناراض ہو گیا تھا۔ جبکہ رستم نے بادشاہ کو شہزادے کے خلاف شکایت کی اور بطور ثبوت شاہ ایران کو مصطفٰی کی جانب سے لکھا گیا خط بھی دکھایا گیا۔

سلطان یہ دیکھ کر مصطفٰی کے خلاف ہو گئے تھے۔ وہ اس بنی بنائی بات پر یقین کر کے اپنے بیٹے کے خلاف ہو گئے تھے۔ جبکہ رستم کے اہلکار شہزادے کے حلقے میں یہ بات پھیلا رہے تھے کہ سلطان اپنے دوسرے بیٹے کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ 1553 میں سلطان جب ایران پر حملہ آور ہوئے تھے، اس وقت رستم پاشا نے ایک چال چلی جو سلطان اور شہزادے کی رشتے میں مکمل طور ہر دوری کی وجہ ثابت ہوئی۔ رستم نے مصطفٰی کو مشورہ دیا کہ وہ والد سے صلح کے لیے اپنی فوج کے ساتھ آجائیں۔ جبکہ اس کے برعکس سلطان کو بتایا گیا کہ شہزادہ مصطفٰی مصلح گروہ کے ساتھ حملے کے لیے آ رہا ہے۔ جیسے ہی مصطفٰی والد کے خیمے میں داخل ہوا، اس امید کے ساتھ کہ وہ والد سے تمام رنجشیں ختم کر کے رہے گا۔ والد سے ملاقات کے دوران ہی سلطان کے اہلکاروں نے مصطفٰی کو دبوچ لیا اور وہیں اسے قتل کر دیا۔ اس طرح عثمانیہ سلطنت میں ایک نئی روایت قائم ہوئی، جس نے عثمانیہ سلطنت کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تمام مؤرخین کی نظر میں شہزادہ مصطفٰی ایک قابل حکمران اور بیٹا تھا۔

حریم سلطان نے کے حکم پر قاتلوں کے کانوں کے پردے پھاڑ دیے اور زبان کاٹ دی گئی تاکہ وہ کچھ سن اور بول نہ سکیں۔ حریم سلطان کی خواہش تھی کہ مصطفٰی کی بجائے اس کے بیٹے ہی بادشاہ بنیں، مگر شاید یہ بھی خدا کی طرف سے سزا تھی کہ وہ اپنی زندگی میں وہ کسی بیٹے کو بھی بادشاہ بنا نہ دیکھ سکی۔ اور پھر 1958 میں اچانک موت سے ہمکنار ہو گئی۔ دوسری طرف سلطان سلیمان کا بڑھاپا بھی کچھ اچھا نہیں تھا۔ وہ اسی امید میں تھے کہ بیٹے ان کا سہارا بنیں گے، مگر دو بیٹے ان کی زندگی میں چل بسے، جبکہ مصطفٰی جو کہ نہایت قابل شہزادہ تھا اسے خود اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا۔

آخری میں دو شہزادے بچے۔ سلیم اور بایزید، ان دونوں شہزادوں کے مابین شدید جنگ ہوئی جس میں بایزید مارا گیا۔ اس طرح حریم سلطان کا خواب بھی پورا نہیں ہوا اور سلطان بادشاہ نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی قسمت اجاڑ دی تھی۔ اپنے قابل بیٹے کو مار کر سلطان نے سب کچھ کھو دیا تھا۔ دوسروں پر یقین کرنا اور سنی سنائی بات پر بھروسہ سلطان کی بربادی کا سامان ثابت ہوا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US