زندگی بھر جو کمایا، اس گھر میں لگا دیا ۔۔ جانیے اپنی ساری جمع پونجی گھر پر لگا دینے والے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کی رلا دینے والی کہانی

image

اپنا گھر اپنا ہی ہوتا ہے، اور اگر اچانک آپ کو یہ خبر ملے کہ آپ کا گھر ناجائز اور غیر قانونی جگہ پر ہے لہٰذا اسے گرایا جا رہا ہے۔ یہ خبر سن کر کوئی بھی خوش نہیں ہوگا بلکہ صدمے ہی سے دوچار ہوگا۔

نسلہ ٹاور کے مکینوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، جو شارع فیصل پر نرسری کے مقام پر واقع بلڈنگ کے رہائشی ہیں۔ ان مکینوں کو نہ صرف گھر خالی کرنے کے آرڈرز دیے گئے ہیں بلکہ گھروں کے بدلے معاوضہ بھی نہیں ادا کیا جا رہا ہے۔

کسی نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی اس گھر پر لگا دی تو کوئی قرض لے کر یہ گھر خرید چکا ہے۔ مشکلات ان لوگوں کے لیے ڈبل ہیں جن کے پاس رہنے کوئی دوسرا آسرا نہیں ہے۔

نسلہ ٹاور کے مکینوں سے ہماری ویب کے رپورٹز راحیل گل نے بات چیت کی جس میں رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ گھر ہم نے 2013 میں قسطوں پر لیا تھا، لیکن قیمت 1 کروڑ 50 لاکھ تھی۔ ڈاکیمنٹیشن کے حوالے سے بلڈر نے ہمیں مطمئن کیا تھا۔ تمام کاغذات پر دستخط موجود تھے، جبکہ تمام کاغذات کلیر تھے۔ این او سی کلئیر تھی۔ بلڈنگ کو گرانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہی بلڈنگ کو گرادیں ہم نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں موت قبول ہے، بجائے اس کے کہ ہم فیملی کو لے کر سڑکوں پر آجائیں۔

جبکہ ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ میں نے یہ فلیٹ 1 کروڑ 75 لاکھ روپے میں لیا ہے۔ اس میں قصور کے ڈی اے، کے اہم سی کا ہے، جنہوں نے اس بلڈنگ کی کنسٹرکشن کو ہونے دیا۔ آپ پہلے ہی تمام معاملات کو دیکھتے۔

ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ 15 منزلہ عمارت بنتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا؟ جبکہ شارع فیصل پر ایک تنکا بھی گر جائے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے۔ ہم نے محنت سے جمع پونجی سے یہ فلیٹ خریدا تھا۔ موت کو گلے لگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

رہائشی بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ میں دل کی مریضہ ہوں، مجھے پچھلے ماہ ہی دل کا دورہ پڑا ہے، کیا اس صورتحال میں جو خبریں مل رہی ہیں کیا میں صحیح رہ سکتی ہوں؟ یہاں کوئی امیر لوگ نہیں رہتے، سب سفید پوش لوگ ہیں۔ خدارا کچھ تو کریں، ہماری دعائیں لیںں نہ کہ ہمیں بے گھر کر کے آہیں لیں۔ ہماری اپیل ہے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ہمیں سُن لیں۔

نسلہ ٹاور کے رہائشی بچے اور خواتین بھی فیصلے پر کہتی ہیں کہ ہم سے ہماری چھت نہ چھینی جائے۔ خدارا اس فیصلے پر نظر ثانی کریں، ہمارے پاس ایک ہی گھر تھا، اگر یہ بھی چلا جائے تو ہم کیا کریں گے۔ ہم ماں بہن بیٹی ہیں خدارا ہم پر رحم کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US