طالبان اپنی سخت اور سرِ عام سزائیں دینے کے حوالے سے کافی مشہور رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ ایک مذہبی سیاسی جماعت ہیں اس لئے وہ حکومت میں رہ کر وہی قوانین عمل میں لائیں گے جو اسلام نے بنائے ہیں۔ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں سرِ عام پھانسی پر لٹکانے، ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزائیں دی جاتی رہی ہیں جن کو نافذ کرنے میں ملا نور الدین ترابی کا خاص ہاتھ رہا ہے۔
ملا نور الدین ترابی کون ہیں؟
ملا نور الدین ترابی طالبان کے بانیوں میں شامل ہیں۔ یہ طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں وزیرِ انصاف تھے اور مذہبی قوانین بھی لاگو کرتے تھے۔ ملا نور الدین ترابی نے 1980کی دہائی میں سوویت فورسز سے لڑائی کے دوران ایک آنکھ اور ایک ٹانگ کھو دی۔ اس وجہ سے یہ لڑکھڑا کر چلتے ہیں اور سخت مزاج طالب رہنما سمجھے جاتے ہیں۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں کس طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں؟
اس زمانے میں اگر کوئی شخص کسی کا قتل کردے تو مقتول کا خاندان قاتل کو خود گولی مار کر بدلہ لےسکتا تھا یا قصاص کا مطالبہ کرسکتا تھا۔ چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہاتھ اور ٹانگ کاٹ جاتے تھے جبکہ زنا کی سزا کے لئے کوڑے مارے جاتے تھے۔
ملا نور الدین نے 1996میں طالبان کا دورِ حکومت آتے ہی ایک صحافی خاتون کو مردوں سے دور رہنے کا حکم دیا تھا اور ان کو اس عمل سے روکنے والے شخص کو انھوں نے ایک تھپڑ بھی مارا تھا۔ملا نور الدین ترابی گاڑیوں سے آڈیو ٹیپ نکالنے اور بل بورڈز سے تصاویر مٹانے کے لئے مشہور تھے۔ ان کی ایک اپنی بنائی ہوئی ٹیم بھی تھی جو لوگوں کو گھر سے مسجد لے جر پانچ وقت کی نمازیں پڑھوانے کے لئے کام کرتی تھی۔
شرعی سزاؤں میں نرمی نہیں برتی جائے گی
البتہ حال ہی میں ملا نور الدین ترابی نے یہ کہا تھا کہ طالبان اب تبدیل ہوچکے ہیں وہ لوگوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی اجازت دیں گے کیونکہ اب یہ ہر جگہ استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن پرسوں دوبارہ کابل میں چار مجرمان کو سزائے موت کے بعد سرِ عام لٹکایا گیا ہے جس پر مختلف ردِ عمل بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ لیکن ملا نورالدین اس معاملے پر پہلے ہی سخت الفاظ میں بتا چکے ہیں کہ وہ شرعی سزاؤں کے بارے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
کاروبار کرسکتے ہیں
لوگوں کا کہنا ہے کہ سرِ عام لعشوں کو لٹکنا دیکھنا کافی دردناک ہے لیکن اس کے بعد لوگ جرم نہیں کرتے کیونکہ انھیں اپنے انجام کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اب ہم اپنے کاروبار بغیر ڈر کے کرسکتے ہیں۔