پاکستانی میزائل بھارت سمیت دنیا بھر میں اپنی قوت دفاع کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ویسے ہر ملک کے میزائل ایسے ہی ہیں مگر پاکستانی میزائلوں کے نام سے بھارت کو ایک ایسا خوف ہے جو اسے ماضی میں لے جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو پاکستانی میزائلوں سے متعلق بتائیں گے۔
غزنوی، بابر،غوری، ابدالی، یہ چند وہ مشہور نام ہیں جن پر بھارت چر سا جاتا ہے، اگرچہ یہ میزائل مالی اور جانی نقصان پہچانے کے لیے ہی بنائے گئے ہیں مگر ان ناموں کے پیچھے بھی ایک جنگ جاری ہے۔
اگر غزنوی میزائل کی بات کی جائے تو یہ نام بھارت کو گوارا نہیں ہے۔ محمود غزنوی کو بھارت میں منفی طور پر دیکھا جاتا ہے،
یہی وجہ ہے کہ غزنوی میزائل کا نام بھارت کو پسند نہیں ہے، دراصل وہ اس نام کو بھارت اور ہندو دشمنی کا نام دیتا ہے، جبکہ پاکستان اسے ہیرو کے طور پر دیکھتا ہے۔
اسی طرح بابر نام کے پیچھے بھی بھارت کو اعتراض ہے، بابر مغل سلطنت کے پہلے حکمران تھے، اور ساؤتھ ایشیاء میں مسلمانوں کے لیے ایک اہم نام ہے۔ لیکن بھارت کو اس نام سے بھی اعتراض ہے۔
اسی طرح غوری میزائل، غوری نام پر بھارتی میڈیا کو اس طرح تکلیف دیتا ہے کہ یہ بقول بھارتی میڈیا، یہ میزائل نارتھ کوریا کے نوڈونگ بیلسٹک میزائل سے مماثلت رکھتا ہے۔
اسی طرح ابدالی میزائل پر بھارت اور افغانستان دونوں کو اعتراض ہے، افغانستان احمد شاہ ابدالی کے نام کو افغانستان سے جوڑتا ہے، جبکہ اعتراض کرتا ہے کہ پاکستان اسے استعمال نہیں کر سکتا ہے۔
چونکہ احمد شاہ ابدالی مسلمانوں کے لیے لڑ رہا تھا یہی وجہ تھی بھارت ابدالی نام پر بھی اعتراض کرتا ہے۔
یہ نظریاتی جنگ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت بھی لڑ رہا ہے۔ بھارت میں بھی میزائلوں کے نام مہاراجہ اور راجاؤں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔ ان ناموں اور میزائلوں کی طاقت کی بنا پر نظریاتی جنگ میں اہم کامیابی ملنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔