مساجد کو بند کر دیا گیا، مارکیٹس بنا دی گئیں ۔۔ چین میں مسلمانوں کی سوچ کو کس طرح زبردستی تبدیل کیا جا رہا ہے، دیکھیے

image

چین دنیا میں مقبول ترین ممالک میں شامل ہے، جبکہ مسلم ممالک میں چین کو اس لیے بھی اچھا تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک اسرائیل، بھارت، امریکہ سے اختلاف رکھتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چین کے حوالے سے بتائیں گے جہاں مسلمانوں کو ایک مختلف زندگی گزر بسر کرنا پڑ رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر جوئی حطف نامی یوٹیوبر کی جانب سے چین پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی، جس میں وہ چین میں سیر و تفریح کی غرض سے گئے تھے۔ مگر صورتحال نے انہیں حیران اور پریشان کر دیا تھا۔

چین کے صوبے ایسٹ ترکستان میں تقریبا 21 ملین کے قریب مسلمان آباد ہیں، جبکہ ان مسلمانوں کو کئی مذہبی اور سماجی پابندیوں کا سامنا ہے۔ مسلمان آزادانہ طور پر اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار نہیں کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ آزان بھی نہیں دے سکتے۔

یوٹیوبر نے اس شہر کا دورہ رمضان کے عرصے میں کیا تھا اور وہ یہ دیکھ کر حیران تھا کہ رمضان میں مسلمان بجائے مساجد میں عبادت کرتے، اپنے روزے پر فخر کرتے نظر آتے یہاں ایک ایسا ماحول ہے کہ مسلمان مساجد نہیں جا سکتے ہیں، جبکہ روزہ بھی نہیں رکھ سکتے ہیں۔

اس ویڈیو میں بھی جب یوٹیوبر نے ایک شخص سے پوچھا کہ آپ کا روزہ ہے تو وہ ڈر گیا اور اپنی ہی دکان سے کچھ چیز اٹھا کر کھالی تاکہ اسے یقین ہو کہ میرا روزہ نہیں ہے۔

2016 میں شنگ جیانگ میں مساجد میں نمازیں ادا کی جاتی تھیں مگر 2019 میں بنائی گئی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اب ان مساجد کو جہاں نماز پڑھائی جاتی تھی اب مارکیٹس اور میوزیم میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ چین میں مسلمانوں کو لمبی داڑھی رکھنے پر پابندی ہے، خلاف ورزی کی صورت میں مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔

چین میں حرام گوشت کھانا، اپنے مذہب سے باہر لڑکی سے شادی کرنا، شراب پینا، غرض بہت سے وہ کام مسلمانوں کو کرنا پڑتے ہیں جو کہ اسلام میں جائز نہیں ہیں۔ چین میں چینی روایتوں کو بڑھانے کے لیے حکومت اسلامی روایتوں کو ختم کرنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی روایتوں پر زور ڈال رہی ہے اور ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جس سے مسلمان اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

چین میں موجود کیمپس میں 1 ملین کے قریب اویغر مسلمان قید ہیں جبکہ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل دراصل چین میں مسلمان انتہا پسندی کا خاتمہ ہے۔ چین میں مساجد تو موجود ہیں مگر یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ مساجد کو میوزیم، مارکیٹس بنا دیا گیا ہے، ان مساجد میں تصاویر کھیچ سکتے ہیں مگر نماز ادا نہی کر سکتے۔

اسی طرح مساجد میں مارکیٹس بنائی گئی ہیں اور کچھ مساجد کو تو بند ہی کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو گھر ہی میں پڑھیں۔ ایسا یوٹیوبر نے مشورہ دیا، جس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ صورتحال کس حد تک خراب ہے۔ یہ مساجد چینی شہر شنگ جیانگ اور ایسٹ ترکستان کی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US