لوگوں کی مدد کرنا صباء کو مہنگا پڑ گیا۔ 5 سال قبل کراچی میں ویلفیئر ٹرسٹ کا ادارہ کھولنے والی صباء کو سرِعام دوپہر 12 بجے کے وقت اس کے پڑوسی غضنفر نے اس لئے قتل کر دیا کیونکہ وہ لوگوں کی مدد کرتی تھی، سب اس کی تعریف کرتے تھے وہ سب کا خیال کرتی تھی۔ اس کی عزت ہوتی تھی اس لئے ملزم نے صباء کو کمر میں ضرب لگا کر قتل کردیا۔
اپنی موت سے
چند روز قبل سندھی ثقافت کے دن کے موقع پر صبا اسلم نامی 25 سالہ وکیل نے ایک تقریب سے خطاب میں خوشی سے کہا تھا کہ انہیں سندھی کہلانے پر فخر ہے۔
نیو کراچی کی رہائشی صبا اسلم نے 5 سال پہلے انیسہ اسلم ویلفیئر ‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنائی۔ جو چائلڈ لیبر اور بیواؤں کے لیے کام کرتی ہے۔
صباء نے اپنے علاقے کے لئے سیوریج جیسے بڑے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ ملزم اکثر اس کے گھر کے باہر کچرا پھینک کر چلا جاتا تھا جس کی وجہ سے تلخ کلامی بھی ہوتی رہتی تھی۔ لیکن اہلِ محلہ کے مطابق صباء کو شاید با اثر افراد کے خلاف بولنے کی وجہ سے مارا گیا ہے۔