‘شروع کے چند گھنٹے تو ہم مدد کا انتظار کرتے رہے مگر صبح سے دوپہر اور پھر رات ہوگئی۔ ہم گھبرا گئے تھے لیکن اسی وقت پاکستانی کپتان محمد شہزاد ہماری مدد کو آگئے“
یہ الفاظ ہیں انڈونیشئین ماہی گیروں کے جن کی کشتی صبح 5 بجے طوفان کا شکار ہوگئی تھی۔ ان تین ماہی گیروں میں سے دو سگے بھائی اور ایک ان کا ساتھی تھا۔ یہ تینوں ماہی گیر ایک رات پہلے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے سے اپنی کشتی پر نکلے تھے اور ساری رات کام کرتے رہے مگر بدںصیبی سے صبح ان کی کشتی منہ زور طوفان کا شکار ہوگئی اور پھر ان کے لئے جان بچانا مشکل ہوگیا۔
جیسے ہی ماہی گیروں کے بارے میں سنا فوراً مدد کا فیصلہ کیا
اسی دوران پاکستان کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے کیپٹن محمد شہزاد اشرف جو بین الاقوامی جہاز کے کپتان ہیں، سمندر میں موجود تھے، جب انھیں پتا چلا کہ سمندری حدود میں تین افراد کو مدد کی ضرورت ہے تو انھوں نے فوراً ان کی مدد کا فیصلہ کیا۔
کیپٹن شہزاد نے بتایا کہ “یہ انسانیت کے ناطے ہمارا فرض تھا کہ ہم ان کی مدد کرتے لیکن مجھے اپنی کمپنی سے اجازت کی ضرورت تھی۔ جیسے ہی مجھے اجازت ملی میں نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا“
دوبارہ طوفان کا خطرہ موجود تھا
کیپٹن شہزاد کے مطابق انھیں بھی اس بات کا خطرہ تھا کہ اچانک دوبارہ طوفان نہ آجائے کیونکہ سمندر کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ لیکن ان ماہی گیروں کی خوش قسمتی تھی کہ ایسا کچھ نہ ہوا اور ہم ان کے پاس پہنچ گئے اور ان کی جان بچا لی۔
انڈونیشین سفارت کار نے سراہا
کیپٹن شہزاد تین قیمتی انسانی جانیں بچانے پر کافی خوش ہیں۔ بچ جانے والے ماہی گیروں کے علاوہ انڈونیشیا کے سفارت کار کیپٹن سپنڈی ایم ایم ٹی آر نے بھی جہاز پر آکر کیپٹن شہزاد کے بروقت مدد کرنے کے جذبے کو سراہا۔ بلاشبہ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیپٹن شہزاد کا کارنامہ ملک کے لئے فخر کا باعث ہے۔