“تم نے توکہا تھا کہ اپنا گھر بنانا ہے۔ کرایہ کے گھروں میں رہ رہ کر تنگ آ چکا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ میرا جنازہ اپنے گھر سے نکلے۔ اب دیکھو تمھارا جنازہ کرائے کے گھر سے نکل رہا ہے“
دل چیر دینے والی یہ دہائی شفیع اللہ کی بیوہ کی ہے۔ شفیع اللہ کراچی میں بینک دھماکے میں مرنے والے چند بدقسمت افراد میں سے ایک ہیں۔ ان کی عمر 27 رس تھی اور ایم این اے عالمگیر خان کے والد دلاور خان کے ڈرائیور تھے۔ شفیع اللہ کے سوگواروں میں تین چھوٹے بھائیوں، بوڑھی ماں کے علاوہ تین چھوٹے بچے اور ایک بیوی ہے۔
خود بھی بچپن میں یتیم ہوا اور اپنے بچوں کو بھی یتیم کرگیا
شفیع اللہ کی بیوہ کے مطابق ان کی صرف ایک خواہش تھی کہ اپنا گھر بنا سکیں۔ پیسے جمع کرکے ایک پلاٹ خریدا تھا اور کمیٹی ڈاالی تھی کہ جب نکلے گی تو اپنا گھر بنوائیں گے۔ شفیع اللہ خود بھی 11 برس کی عمر میں یتیم ہوگئے تھے اس کے بعد ان کی والدہ نے محنت مزدوری کرکے ان کو پالا پوسا۔ شفیع جیسے ہی بڑے ہوئے انھوں نے ماں کی محنت مزدوری چھڑوادی اور گھر کی ساری ذمہ داری خود اٹھالی۔ اب ان کی ماں روتے ہوئے کہتی ہیں “ تو خود بھی کم عمری میں یتیم ہوا ہے اب اپنے بچوں کو بھی کم عمری بھی یتیم کرگیا ہے“
اگر میں پڑھا لکھا ہوتا تو گارڈ کی نوکری نہ کرتا
ہلاک ہونے والے بینک کے سیکورٹی گارڈ محمد ذیشان کے بھائی کہتے ہیں کہ “ذیشان کہتا تھا کہ کراچی میں گارڈ کی نوکری بہت بڑا خطرہ“
اپنے بچوں کے لئے حساس مرحوم محمد ذیشان اکثر اپنے بچوں کو سمجھاتے تھے “’بچو دیکھو میں جاہل اور ان پڑھ ہوں اس لیے گارڈ کی نوکری کررہا ہوں۔ اگر پڑھا لکھا ہوتا تو گارڈ کی نوکری نہ کرتا، خوب محنت کرکے پڑھنا تاکہ زندگی میں ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘
ابو اٹھو، ابو اٹھو
جنید زہری 50 برس کے تھے اور بینک میں کیشیئر تھے۔ جس وقت ان کی میت گھر لائی گئی ان کا معذور بیٹا ڈر گیا اور رو رو کر انھیں پکارنے لگا۔ اس منظر کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ جنید زہری اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے ان کے سوگواران میں ان کی بیوہ اور 4 بچے شامل ہیں۔ جنید اپنے معذور بیٹے سے بہت زیادہ قریب تھے اور گھر آکر سارا وقت اسی کے ساتھ گزارتے تھے۔
اپنی جان فرض پر قربان کرنے والے محد یونس
بینک محافظ محمد یونس دھماکے کے بعد بالکل صحیح تھے اور زخمیوں اور پولیس والوں کی مدد کررہے تھے لیکن اچانک اس ے جسم سے خون نکلنا شروع ہوگیا اور ان کا انتقال ہوگیا۔ لوگوں کے مطابق “ یونس آفریدی نے نہ صرف زخمیوں کی جان بچانے کی کوشش بلکہ بینک کی حفاظت کا فریضہ بھی پوری طرح انجام دیا۔ وہ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑتا رہا۔ وہ ایک بہادراور فرض شناس شخص تھا، جس کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔