جب کسی کو بھی حد سے زیادہ دبایا جاتا ہے تو وہ اسی طاقت سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، برداشت کا مادہ بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی واقعہ سے متعلق بتائیں گے جس میں ایک شخص نے اپنی ہی بس کو آگ کو لگا دی۔
بلوچستان کے علاقے وندر میں ایک چیک پوسٹ کے سامنے ٹرانسپورٹر نے اپنی ہی بس کو آگ لگا دی۔ بس کو نزر آتش کرتے وقت بس مالک افسردہ بالکل بھی نہیں تھا بلکہ چہرے پر غصہ تھا اور برداشت کی وہ حد ختم ہونے کے تاثرات تھے جو کہ اب آتش فشاں کی صورت میں باہر آ رہی تھی۔
کراچی اور کوئٹہ کے راستے میں آنے والے علاقے وندر میں بس مالک نے اس وقت اپنی بس کو آگ لگائی جس چیک پوسٹ پر بسوں سے مسافروں کو اتار کر ان کی چیکنگ کی گئی اور بس مالکان کوتنگ کیا گیا۔
بس مالک حاجی داد محمد اچکزئی کا کہنا تھا کہ 2016 کے ماڈل کی اس بس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے تھی۔ جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ کوسٹ گارڈ کے عملے سے تنگ آ گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بس کو آگ لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
بسوں میں جو لوگ سفر کرتے ہیں، ان پر یہ لوگ اعتراض کرتے ہیں، بس مالک کی جانب سے مزید کہا گیا کہ یہ مسافر افغان اور ازبک ہیں، انہیں مت اٹھاؤ۔
بسوں کو تلاشی کے نام پر دو گھنٹے تک روکا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی اور مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس حوالے سے کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ رکنے کی صورت میں بی بی سی کو بتایا کہ بس مالک کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ہیں، جبکہ اس حوالے سے جلد پریس ریلیز جاری کی جائے گی۔
حاجی داد محمد اچکزئی کی بس مکمل طور پر جل چکی ہے، جو کوئی بھی بس کو بچانے کے لیے پانی ڈالتا، حاجی داد اس شخص کے راستے کے بیچ میں آجاتے تھے۔