مصنوعی گردہ بنا کر بھی ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔۔ وہ وقت جب ڈاکٹر بھی مفتی تقی عثمانی کے آگے لاجواب ہو گئے

image

انسانی جسم میں قدرتی طور پر جو چیزیں موجود ہیں ان کا نعم بدل ممکن نہیں ہے، اگرچہ اس وقت کئی ایسے آلات اور مشینیں آ گئی ہیں جس نے انسانی جسم میں جگہ بنا لی ہیں، مگر کہتے ہیں نا کہ ایک وقت آتا ہے کہ قدرت کے آگے ہار ماننی ہی پڑتی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ جسم میں موجود گردہ کس طرح انسان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔

مفتی تقی عثمانی پاکستان کے نامور علمائے کرام میں سے ہیں۔ جبکہ مفتی تقی عثمانی دنیاوی اور دینی معاملات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے اپنی زندگی میں ایک واقعہ بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ کراچی کے ایک گردے کے اسپیشلسٹ سے میرے بھائی نے پوچھا کہ کہ آپ ایک انسان کا گردہ دوسرے انسان کو لگاتے ہیں،اب تو سائنس نے اس حد تک ترقی کر لی ہے کہ مصنوعی گردہ تیار کیا جا سکتا ہے اور لگایا بھی جا سکتا ہے، تو پھر ایک انسان کا گردہ دوسرے انسان کو کیوں لگایا جاتا ہے؟

اس کے جواب میں اسپیشلسٹ مسکرائے اور کہنے لگے کہ ترقی کے باوجود سائنس مصنوعی گردہ نہیں بنا سکتی ہے۔ دارصل اللہ تعالٰی نے گردے میں ایک ایسی چھلنی بنائی ہے جو کہ باریک اور اتنی لطیف ہے کہ اب تک سائنس ایسی چھلنی بنا ہی نہیں پائی اور اگر فالفرض بنا بھی لے تواس کے لیے اربوں روپے لگ جائیں گے۔

لیکن پھر بھی یہ مصنوعی گردہ کارآمد اس لیے نہیں ہو سکے گا کیونکہ انسانی جسم میں موجود گردے میں اللہ نے دماغ بنایا ہے جو کہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ انسانی جسم کو کتنے پانی کی ضرورت ہے اور کتنا پانی دینا چاہیے۔

انسانی جسم میں موجود گردہ یہ فیصلہ جسمانی وزن، جسم کے مطابق کرتا ہے۔ اسی لیے اربوں روپے لگا کر بھی مصنوعی گردہ کارآمد نہیں ہو سکے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US