انسانیت کا درد اور احساس رکھنے والے ہر ایک کو اشکبار کر جاتے ہیں، یہ جملہ ہم سب نے سنا ہوگا، مگر حقیقت میں آج احساس ان لوگوں کو ہو رہا ہے، جن کی مدد ڈاکٹر طاہر شمسی کیا کرتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ڈاکٹر طاہر شمسی سے متعلق کچھ ایسی ہی معلومات فراہم کریں گے جو وہ سکتا ہے آپ نے پہلے نہیں سنی ہوں۔
ڈاکٹر طاہر شمسی 18 فروری 1962 میں کراچی کے گھرانے میں پیدا ہوئے، طاہر شمس نے ابتدائی تعلیم گھر سے اور اسکول سے حاصل کی، جبکہ مزید تعلیم کے لیے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز جوائن کیا۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کے دن ہم نے ایک بہت بڑا اثاثہ کھویا ہے کہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے ایم بی بی ایس، ایف آر سی پی، ایم آر سی پاتھ، ایف آر سی پاتھ، کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ عام ڈاکٹروں کی طرح صرف پیشے سے منسلک نہیں تھے بلکہ وہ انسانیت کو خوب پہچاننے کا ہنر رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر عام لوگوں کے درمیان پائے جاتے تھے۔
18 سال کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی اونوکالوجسٹ اور ہیماٹولوجسٹ تھے۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کئی چینلز اور اخبارات میں بطور ماہر صحت اپنا تجزیہ پیش کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ بیمار اور غیر معمولی بچوں پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ان کے اسی انداز کی بدولت ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو گیا تھا۔
کورونا کی مشکل صورتحال میں بھی ڈاکٹر طاہر شمسی نے ہمت نہیں ہاری اور صف اول کے مجاہدوں میں اپنا نام لکھوایا۔
ڈاکٹر طاہر شمسی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ اور خون کے دیگر کینسر کے علاج میں گراں قدر خدمات پیش کی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر شمسی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے ہیڈ تھے، جبکہ 2020 تک ان کا ادارہ 200 لوگوں کو پلازمہ فراہم کر کے ان کی زندگیاں بچا چکا ہے۔