اس سردی کے موسم میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے نہانا تو دور ہاتھ دھونا اور وضو کرنا بھی مشکل کردیا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ہم ایک ایسا حل لے کر آئے ہیں جو کم خرچ میں آپ کو گرم پانی کی سہولت دے سکتا ہے۔
الیکٹرک راڈ
الیکٹرک راڈ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں پانی گرم کرنے کے کام آتا ہے۔ اس راڈ میں مختلف وراٹیز آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی مختلف ہیں۔ 1500 واٹ رکھنے والی راڈ ساڑھے تین سو میں مل جاتی ہے۔ اسی طرح جیسے جیسے پاور زیادہ ہوجاتی ہے قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
طریقہ استعمال
اس راڈ کو استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پانی سے بھری بالٹی میں راڈ ٍڈال کر اس کا تار سوئچ بورڈ میں لگا کر آن کردیا جائے۔ جب محسوس ہو کے پانی مکمل گرم ہوگیا ہے تو سوئچ بند کرکے راڈ اور تار نکال دیں۔
لازمی احتیاطی تدابیر
یہ راڈ چونکہ بجلی سے چلتی ہے اس لئے اس سے پانی گرم کرنے کے لئے کئی طرح کی احتیاط لازم ہیں۔
پہلی احتیاط یہ کہ جس بالٹی میں راڈ ڈالی جارہی ہو وہ اسٹیل کی ہو۔ اگر پلاسٹک کی ہوگی تو پلاسٹک راڈ سے فوراً پگھل جائے گی۔
پانی بھرنے کے بعد راڈ ڈالیں اور سب سے آخر میں آن کرنے کا کام کریں اس کے بعد اس سے دور ہوجائیں۔ پانی کی گرمائش چیک کرنے کے لئے کبھی بھی جلتی راڈ میں ہاتھ نہ ڈالیں اور نہ ہی بالٹی پکڑیں۔
بجلی والے کام ہمیشہ چپل پہن کرکریں ۔
بچوں، بزرگوں اور پالتو جانوروں والے گھر میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر بچوں کو تو اس کام سے دور ہی رکھیں۔