پاکستان میں جہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے وہیں منافع خور منافع کمانے کا نت نیا طریقہ تلاش کر رہے ہیں۔
لیکن ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو پاکستان کے اک ایسے علاقے سے متعلق بتائیں گے جہاں ایمانداری کے ساتھ لوگ کاروبار کر رہے ہیں۔
وادی کیلاش کو کافرستان بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور رواج کچھ مختلف ہے۔ لیکن صرف رہن سہن ہی نہیں بلکہ یہ لوگ اپنے علاقے میں آنے والے سیاحوں سے بھی اس طرح برتاؤ کرتے ہیں کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
عام طور پر پورے پاکستان میں ہی 50 روپے کے چپس بھی 60 روپے کے بیچے جاتے ہیں لیکن کیلاش میں آپ کو جو چیز جتنے کی ہے اسی دام میں دی جاتی ہے۔
حکیم بابر نامی فیس بک پیج پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دکان پر انتہائی مناسب ریٹس پر کھانے پینے کی چیزیں دستیاب ہیں۔
بادام، شہتوت، سمیت دیگر ڈرائی فروٹس کی پیکٹس صرف 300 روپے میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس دکان کے مالک حاجی سلطان کہتے ہیں کہ جو مال آتا ہے اسے اتنے ہی داموں میں فروخت کرتے ہیں۔ ایک چپس کے ڈبے پر 50 روپے کا منافع ہوتا ہے، اس سے زیادہ حاجی سلطان خود ہی نہیں لیتے ہیں۔
حاجی سلطان کہتے ہیں کہ ہمیں کرایہ بھی زیادہ پڑتا ہے، جبکہ گھر بھی کچھ فاصلے پر ہے۔ ہم جائز ریٹس پر بیچتے ہیں۔ ہمارا کام پورا ہوتا ہے۔ صرف ایک ہی دکان نہیں بلکہ پورے کیلاش میں اسی طرح ایمانداری کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔
کیلاشی آنے والے سیاحوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ یہاں کے لوگ مہمانوں سے اس طرح پیش آتے ہیں کہ جیسے وہ کسی کے گھر مہمان ہوں۔ اللہ ایمانداری سے کام کرنے پر برکت دیتا ہے، یہی حاجی سلطان کا ایمان ہے۔