ان خواتین کی تنخواہ بھی اچھی ہے اور کام بھی سیکھ لیا ۔۔ تھر کی خواتین دیوہیکل ٹرک اور گھر کو کس طرح سنبھال رہی ہیں؟

image

سوشل میڈیا پر خواتین کی ہمت اور محنت کی داد دی جاتی ہے، عام طور پر شہر کی خواتین کو ان کی ہمت پر سراہا جاتا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو تھر کی ان خواتین کے بارے میں بتائیں گے جو کہ دیوہیکل ٹرک چلا کر گھر چلاتی ہیں، جبکہ بچوں کو بھی سنبھال رہی ہیں۔

پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں جہاں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں وہیں تھر کی خواتین بھی ہمت اور حوصلے کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں۔

60 ٹن وزنی ان ٹرکوں کی قیمت بھی ان کے وزن کی طرح آسمان کو چھوتی ہے۔ گلبدن بھی تھر کی رہائشی خاتون ہیں جو کہ ان بھاری بھرکم ٹرکوں کو چلاتی ہیں۔

گلبدن کی عمر 25 سال ہے جبکہ وہ تین بچوں کی ماں بھی ہے۔ عالمی میڈیا رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں گلبدن کا کہنا تھا کہ شروعات میں ٹرک چلانے میں مشکل ہوتی تھی مگر اب باآسانی ٹرک چلا سکتی ہوں۔ گلبدن کا کہنا تھا کہ عورتیں ہر میدان میں اپنا سکہ جما سکتی ہیں، وہ مردوں کی طرح ہر شعبے میں مہارت دکھا سکتی ہیں۔

گلبدن کی طرح 29 خواتین مزید ہیں جو کہ اس پیشے میں منسلک ہیں، وہ اس تربیت حاصل کر کے پیشے سے منسلک ہوئیں لیکن چونکہ گلبدن پہلے سے ہی گاڑی چلانا جانتی تھیں، اسی لیے انہیں باقی خواتین پر سبقت تھی۔

ایک دوسری خاتون رامو کا کہنا تھا کہ اگر گلبدن ٹرک چلا سکتی ہے، تو ہم کیوں نہیں چلا سکتیں۔ رامو 6 بچوں کی والدہ ہیں جبکہ 40 ٹن کا ٹرک چلاتی ہیں۔

کوئلے کے مقامات پر ڈمپر چلانے والے ان ڈرائیورز کی تنخواہ 40 ہزار تک ہوتی ہے، جتنی تنخواہ ہے اتنا ہی کام بھی مشقت والا ہوتا ہے۔ اگرچہ تنخواہ کافی اچھی دکھ رہی ہو، مگر اونچے نیچے راستوں پر دیوہیکل ٹرک چلانا آسان نہیں ہوتا ہے۔

نصرت تاج بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو کہ تھر کے صحرائی علاقے میں دیوہیکل ٹرک چلا کر اپنے گھر والوں کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ نصرت کہتی ہیں کہ میں گھر کا پانی بھی خود کنویں سے لاتی ہوں، صاف صفائی کرتی ہوں، کھانا بناتی ہوں اور ٹرک بھی چلاتی ہوں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US